"ایران کے میزائل حملے نے اسرائیلی سائنسی ترقی کو 10 سال پیچھے دھکیل دیا"

اسرائیلی سائنسدانوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حالیہ ایرانی میزائل حملے نے وائزمین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کی کئی سالوں پر محیط سائنسی تحقیق کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

 حملے میں کچھ ایسے سائنسی منصوبے بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں جنہیں دوبارہ شروع کرنا ممکن نہیں ہوگا۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 15 جون کو کیے گئے ایرانی حملے میں انسٹیٹیوٹ کی دو اہم تحقیقی عمارتیں براہ راست میزائل کا نشانہ بنیں، جبکہ دیگر لیبارٹریز اور تحقیقی مراکز کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ حملے کے وقت عمارتیں خالی تھیں، جس کی وجہ سے جانی نقصان سے بچا جا سکا۔ادارے کے نائب صدر برائے ترقی و ابلاغ، روئی اوزری نے میڈیا کو بتایا کہ حملے میں کئی نایاب تجرباتی نمونے، تحقیقاتی مواد اور قیمتی آلات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ ان کے مطابق "یہ صرف عمارتوں کا نقصان نہیں، بلکہ دہائیوں کی تحقیق، سرمایہ کاری اور مستقبل کی امیدیں بھی ملبے کا حصہ بن چکی ہیں۔"سینئر محقق ایلاڈ تساحور نے کہا:"کچھ تجربات پر ہمیں چھ ماہ یا اس سے بھی زیادہ وقت لگا، لیکن سب کچھ راکھ میں تبدیل ہو گیا۔ بدقسمتی سے کچھ سائنسی تحقیق ایسی ہوتی ہے جسے دوبارہ شروع نہیں کیا جا سکتا۔"ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی نے اسرائیلی اقتصادی ویب سائٹ Calcalist کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ حملے سے اسرائیل کو تقریباً 572 ملین ڈالر کا مالی نقصان ہوا ہے۔یہ نقصان نہ صرف سائنسی مواد کی تباہی کی صورت میں ہے بلکہ عالمی سطح پر جاری تحقیقی شراکت داری، سائنسی جریدوں میں چھپنے والے ڈیٹا اور مستقبل کی جدتوں کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے۔

پس منظر:
ایرانی حملہ اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی حالیہ لہر کا حصہ تھا، جس میں فوجی اور اسٹریٹیجک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ وائزمین انسٹیٹیوٹ، جو حیاتیاتی، کیمیاوی اور طبیعیاتی تحقیق کے حوالے سے دنیا میں ممتاز مقام رکھتا ہے، پہلی بار کسی حملے کا ہدف بنا۔یہ واقعہ نہ صرف سائنسی حلقوں میں بلکہ عالمی سطح پر بھی باعثِ تشویش بن گیا ہے کہ اب سائنسی و تحقیقی ادارے بھی ہدف بننے لگے ہیں، جو ماضی میں نسبتاً غیرجانبدار اور محفوظ تصور کیے جاتے تھے۔