کوئٹہ کے مصروف تجارتی علاقوں میں دو بڑی آگ لگنے کے واقعات نے شہر کے تاجروں اور شہریوں کے لیے ہنگامی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
پرنس روڈ پر واقع ایک نجی پلازہ میں اچانک آگ لگنے کے نتیجے میں درجنوں دکانیں جل کر راکھ ہو گئیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق فائر بریگیڈ کی چھ گاڑیاں اور پی ڈی ایم اے کی چار گاڑیاں موقع پر موجود ہیں اور آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم ابھی تک آگ پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔پی ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ آگ کی شدت زیادہ ہے، جس کے باعث قابو پانے کے لیے فائر بال کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ عمارت میں دھوئیں اور شعلوں کی شدت کے باعث امدادی ٹیموں کو کارروائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ پلازہ میں کمپیوٹر، موبائل فونز، گارمنٹس اور دیگر مختلف نوعیت کی دکانیں موجود تھیں، جس سے بڑے مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسی دوران کوئٹہ کے معروف شاپنگ سنٹر حلیم پلازہ میں بھی صبح تقریباً چار بجے کے قریب آگ لگ گئی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق فائر بریگیڈ اور پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں بروقت موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ آگ لگنے کے وقت پلازے میں موجود 12 افراد کو باحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔ خوش قسمتی سے ابھی تک اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ریسکیو حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جائے وقوعہ کے قریب نہ جائیں تاکہ امدادی ٹیمیں بلا رکاوٹ کارروائی کر سکیں۔ آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ یا حفاظتی انتظامات کی کمی کو ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس واقعے نے شہر میں آگ سے متعلق حفاظتی اقدامات اور فائر سیفٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ تاجروں اور مالکان کے لیے مالی نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔