پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق صدر عارف علوی نے سندھ ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے خلاف 2014ء میں دہشت گردی کے مقدمے کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ 2014ء میں ایک پولیس والے نے بیان دیا تھا کہ وہ صدر کے طور پر بندوق سپلائی کرتے تھے، اور ان پر دہشت گردی کا مقدمہ تھا۔ عارف علوی نے اس بیان کو طنزیہ انداز میں ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "جب سے میں پروفیشنل دہشت گرد بن چکا ہوں۔"عارف علوی نے کہا کہ جب وہ صدر بنے تو انہیں استثنیٰ حاصل تھا، مگر انہوں نے کبھی اس استثنیٰ کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ خود عدالت میں گئے تھے تو انہوں نے صدراتی استثنیٰ ختم کر دیا تھا۔ اس کے برعکس، انہوں نے موجودہ صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صدر نے 3 ماہ میں اپنے مقدمات میں 4 بار صدارتی استثنیٰ حاصل کیا، جبکہ انہوں نے نہ تو کوئی کرپشن کی ہے اور نہ ہی چوری کی ہے، اس لیے انہیں اس استثنیٰ کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے 26 ویں آئینی ترمیم پر بھی بات کی، جسے وہ پاکستانی آئین کی تدفین قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس ترمیم کو اس لیے نہیں مانتے کیونکہ اس کے تحت عدالتی نظام میں انصاف کا فقدان ہے، اور غریب کے لیے پاکستان میں انصاف کی فراہمی میں مشکلات ہیں۔
سابق صدر نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ بات چیت ہر مسئلے کا حل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات دو سطح پر ہو رہے ہیں، تاہم وہ لوگ جو مذاکرات کے لیے نہیں اختیار رکھتے، صرف خانہ پری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم کے ووٹوں کو پورا کرنے کے لیے لوگوں کو اغواء کیا گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری تقریب کے دعوت نامے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عارف علوی نے کہا کہ انہیں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے دعوت ملی تھی، لیکن پاکستان کے سیاسی حالات کے پیش نظر انہوں نے اس تقریب میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان میں رجیم چینج کی کوششیں کیں۔
عارف علوی نے بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا رویہ دنیا بھر میں مداخلت اور جنگوں کے آغاز کا رہا ہے، اور انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی میں تبدیلی آئے گی۔