اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین کو 1 روپیہ 3 پیسے فی یونٹ واپس کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی۔ سی پی پی اے کا کہنا ہے درخواست پر 30 جنوری کو سماعت کی جائے گی، دسمبر میں ڈسکوز کو 7 ارب 51 کروڑ 60 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی، فی یونٹ فیول لاگت 9 روپے 60 پیسے رہی، لاگت کا تخمینہ 10 روپے 63 پیسے لگایا گیا تھا۔ وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز)کے معاہدوں کا جائزہ لینے سے بجلی کی قیمت میں کمی ہوئی ہے اور اپریل تک مزید کمی کی توقع ہے جس سے پیداواری اخراجات میں کمی آئے گی،حکومت کاروباری برادری کو پارٹنر سمجھتی ہے اور اس کے ساتھ تعاون کے ذریعے معیشت کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے فیصلہ کن اقدامات نے معاشی بحالی میں مدد دی، بالخصوص ان کے پہلے دور وزارت عظمیٰ میں انتھک کاوشوں نے ڈیفالٹ کے خطرے کو دور اور ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کیا۔وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر میاں ابوذر شاد، نائب صدر شاہد نذیر ، سابق صدور انجم نثار، محمد علی ، سابق سینئر نائب صدر علی حسام اصغر اور سابق نائب صدر فہیم الرحمن بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ چارٹر آف اکانومی کی بات کی ہے۔ 90کی دہائی میں نواز شریف حکومت نے پہلی مرتبہ معاشی اصلاحات متعارف کرائیں جنہیں سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے اپنایا اور بھارت آج بھی ان سے فائدہ اٹھارہا ہے۔