بیٹوں 4 سالہ عثمان غنی، 6 سالہ محمد اذان اور 9 سالہ محمد حذیفہ کیخلاف شفیق اظہر کی مدعیت میں مقدمہ 10ستمبر کو درج کیا گیا
لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہورکے علاقے شادباغ میں چار، چھ اور نو برس کے تین بچوں کے خلاف ’جان سے مارنے کی دھمکی‘ سمیت سنگین الزامات پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔پولیس نے باپ حسنین رضااور 3کم عمر بیٹوں 4 سالہ عثمان غنی، 6 سالہ محمد اذان اور 9 سالہ محمد حذیفہ کیخلاف انسدادِ ڈینگی چیکنگ ٹیم کے سپروائزر محمد شفیق اظہر کی مدعیت میں مقدمہ 10ستمبر کو درج کیا جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 506، 147، 148 اور 186 شامل کی گئی ہیں۔دفعہ 506 جان سے مارنے کی دھمکی کے تحت لگائی جاتی ہے جبکہ دفعہ 186 کارِ سرکار میں مداخلت اور خلل ڈالنے سے متعلق ہے۔مقدمے میں شفیق اظہر نے الزام لگایا گیا کہ ٹیم جب شاد باغ میں ایک گودام کی چیکنگ کے لیے پہنچی تو گودام کے مالک حسنین رضا نے گالم گلوچ شروع کر دی۔حسنین رضا کے تین بیٹوں نے بھی موقع پر پہنچ کر بدتمیزی اور ہاتھاپائی کی۔ وہ جب خود موقع پر پہنچے تو حسنین رضا اور ان کے بیٹوں نے بھی ان پر حملہ کیا، تھپڑ مارے، گالیاں دیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ملزموں نے ان کے دفتری کاغذات اور ڈیوٹی کارڈز بھی چھین لیے، جس کے بعد منت سماجت کر کے انہوں نے اپنی جان چھڑائی۔حسنین رضا نے ڈینگی چیکنگ ٹیم نے ان کے والد کے ساتھ بدتمیزی کی اور رشوت مانگی، ہم نے جب رشوت دینے سے انکار کیا تو ٹیم نے سپروائزر کو بلایا اور اس نے بھی ہمارے ساتھ بدتمیزی کی۔اس بدتمیزی پر ہاتھ اٹھایا لیکن بچوں کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔پولیس حکام نے مقدمے میں نامزد ملزموں کی ضمانت ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ایف آئی آر ابتدائی رپورٹ ہوتی ہے جو مدعی کے بیان کے مطابق درج کی جاتی ہے۔تفتیشی افسر امتیاز نے کہا تفتیش کے دوران حقائق واضح ہوں گے۔