نازیہ آصف
ویکسین میں زہر ہے ، ویکسین ایک سازش ہے، ویکسین بانجھ پن پیدا کرنے کی چال ہے۔ یہودی مسلمانوں کے دشمن ہیں وہ بلا معاوضہ مسلمان ملکوں کی فکر کیوں کرنے لگے۔ یہ لوگ اتنے ہمدرد ہیں تو پاکستان میں اتنے غریب لوگ ہیں ان کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟
ویکسین تھرڈ ورلڈ ممالک کی عوام پہ ٹیسٹ کی جارہی ہے ، ہم کیوں لگوائیں۔۔۔۔؟
یہ ہیں وہ سوالات جو ویکسین کا نام سنتے ہی ایک یلغار کی صورت میں اٹھتے ہیں۔کمال یہ ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا ، جو بھی نئی سائنسی ایجاد آئی برصغیر کے علماء کے نزدیک وہ حرام اور عوام کے نزدیک سازش ٹھہری۔ حفاظتی ٹیکے لگنے شروع ہوئے ، آئیوڈین ملا نمک آیا ، پولیو ویکسین آء ، کرونا کے ٹیکے لگے یا پھر سب ایچ پی وی کی بات چلی سب میں یہودیوں کی تھیوری نظر آئی ، میرا سوال یہ ہے کہ
ہممیں جب جسمانی تکلیف ہوتی ہے تو ڈاکٹر پاس جاتے ہیں ، جب کوء شرعی مسلہ درپیش ہو تو کسی عالم یا مفتی کے پاس جاتے ہیں۔کوء بلڈنگ یا پل بنانا یے تو انجینیر درکار ہوگا۔کیا ایسا ہوا کہ خدانخواستہ ہماری ٹانگ میں کہیں فریکچر ہو گیا ہو تو ہم کسی مولوی یا کسی کمپیوٹر انجینیر کے پاس گئے ہوں،
نہیں ناں تو میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ویکسین پہ سب سے زیادہ اور شد و مد سے مولویوں کے فتوے کیوں آ رہے ہیں۔۔۔ ؟
ایسے فتوے جاری کرنے والے مولوی صاحبان سے سوال ہے کہ ان کے پاس متعلقہ ٹاپک پہ کونسی ڈگری ہے ، اس موضوع سے متعلق آپ کے کتنے کتنے ریسرچ آرٹیکل شائع ہو چکے ہیں۔ ، کتنے تھیسز لکھ چکے۔۔۔ ؟جب ان کی یہ فیلڈ ہی نہیں ، میڈیکل کی الف ، ب سے واقف نہیں تو مدرسوں میں بیٹھ کر فتوے دینے کی کیا تک بنتی ہے۔گلہڑ سے متاثر انسان کی جان پہ بنی ہوتی تھی ،خسرے سے متاثر محلے بھر کے بچے پڑے ہوتے ، کالی کھانسی سے گھر کے گھر ختم ہو جاتے ، مگر اب یہ بیماریاں شاذونادر ہی کہیں نظر آتی ہیں اور کوء ان میں مبتلا ہو بھی جائے تو اسے لاعلاج بیماری کا خدشہ نہیں ہوتا۔پولیو ویکسین ،پھر کرونا ویکسین کو بانجھ پن کی سازش قرار دیا گیا، طویل عرصے سے حفاظتی ٹیکے لگ رہے ، کرونا ویکسین لگوانے نوجوان بھی اب والدین بن چکے ہیں کتنے لوگ بانجھ پن کا شکار ہوئے ، پاکستان کی آبادی تو ضرب کے عمل کی طرح بڑھ رہی ہے۔ہمارے لیے قابل توجہ بات یہ ہے کہ برصغیر میں آبادی کا کم ہونا الارمنگ نہیں بلکہ بڑھنا خطرناک ہے ایک ایک گھر کے چار چار گھر بن رہے ہیں۔اسی وہم اور جہالت کا نتیجہ ہے کہ آج پوری دنیا سے پولیو کا نشان مٹ گیا مگر افغانی جاہلوں کے ان پیروکاروں کی وجہ سے پولیو آج بھی افغانستان کے پی اور کراچی کے چند ان علاقوں میں آج بھی موجود ہے جہاں یہ اکثریت میں بستے تھے۔یاد رہے یہ ویکسین پاکستان میں ٹیسٹ نہیں کی جا رہی بلکہ اس سے پہلے یہ ایک سو پچاس ملکوں کی عوام کو لگ چکی ہے بلکہ ان میں کء ملکوں میں تو بچوں کو بھی لگاء گء ہے۔ہمارے ہاں ایک طرف جتنی تیزی سے بے راہ روی پھیل رہی ہے، دوسری طرف خواتین کی صحت ویسے ہی ڈانواں ڈول ہوتی ہیتو ایسے میں قبل از بیماری بچاؤ ایک رحمت ہے۔
قارئین ہمارے ایلوپیتھی طریقہ علاج میں ساری دوائیوں کی دریافت کا سہرا انگریزوں کے سر کی جاتا ہے ، انھیں ملاوٹ کرنی ہو تو وہ جگر ، ہارٹ شوگر نزلہ بخار بلڈ پریشر کے مسائل میں بھی ملاوٹ کر سکتے ہیں ،انھیں نیا کچھ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ ہمارا رویہ ہے کہ جیسے ہی انسانیت کے لیے فائدہ مند چیز آتی ہے۔ پراپیگنڈہ بریگیڈ پوری آب وتاب سے راگ الاپنا شروع ہو جاتا ہے اور انھیں کء ہمنوا بھی مل جاتے ہیں۔
بعد میں ڈاکٹر سے یہی ویکسین آٹھ سے دس ہزار میں لگے گی تو کیا برائی ہے کہ ابھی فری میں بچیوں کو لگ رہی ہے۔ اگرچہ سروائیکل کینسر کی ریشو پاکستان میں کافی کم ہے مگر ہمارے نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بھی یہی ہے کہ " براء جو شروع میں ہی روکو" بیماری بھی کبھی اکیلے نہیں آتی اپنے ساتھ بیشمار پریشانیاں ساتھ لاتی ہے۔
یہ بات ذہن میں رکھیے کہ آبادی بھی ان یورپی ملکوں یا جاپان کی کم ہو رہی ، پاکستان کی آبادی تو دن دگنی رات چوگنی بڑھ رہی ہے ، پھر یہ شورو غوغا کیوں۔۔ ؟
ویکسین کے خلاف لیکچر دینے والے دوست نہیں انسانیت کے دشمن ہیں۔ان سے دور رہیے۔