سربجیت کور (نور بی بی )نے اپنی مرضی سیقبول اسلام کے بعد نکاح کیا :درخواستگزار
پولیس کے پاس درخواستگزار کے گھر چھاپہ مارنے کی اتھارٹی نہیں، روکا جائے:مؤقف
لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پولیس حکام کو اسلام قبول کرکے نکاح کرنے والی سابق سکھ خاتون سربجیت کور (نور بی بی )کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔ جسٹس فاروق حیدر نے نومسلم خاتون اور اسکے شوہر کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ احمد حسن پاشا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مذہبی رسومات کیلئے آنے والی بھارتی سکھ خاتون نے اسلام قبول کر کے ناصر سے نکاح کیا ، 8 نومبر کو پولیس نے درخواست گزار کے گھر غیر قانونی چھاپہ مارا، پولیس حکام نے خاتون کو شادی ختم کرنے کیلئے دباؤ ڈالا۔ درخواست گزار کا مزید کہنا ہے کہ خاتون نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور نکاح کیا ، پولیس حکام کے پاس درخواست گزار کے گھر چھاپہ مارنے کی کوئی اتھارٹی نہیں لہذا عدالت پولیس کو درخواستگزاروں کو ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے ،عدالت نے پولیس کو بھارتی خاتون کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔