صورتحال نصاب سازی کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہی :ماہرین
لاہور(خصوصی رپورٹ)پنجاب میں نصاب میں ترمیم کے اعلان کے باوجود اساتذہ کی سفارشات شامل نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ گیارہویں جماعت کا نصاب سفارشات کے بغیر ہی شارٹ کر دیا گیا ہے، جس پر تعلیمی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق صوبے میں نصاب کی ازسرِنو تیاری کے لیے اساتذہ سے سفارشات طلب کی گئی تھیں، لیکن نصابی کتب کی تیاری کے عمل میں ان سفارشات کو شامل ہی نہیں کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نصاب سازی کے موجودہ طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے ڈویڑنل صدر حسن رشید نے بتایا کہ نصاب ریویو کرنے کا کوئی واضح طریقہ? کار موجود نہیں اور نصابی کتب گزشتہ 25 سال سے تبدیل نہیں کی گئیں۔ اساتذہ کی رائے کو نظرانداز کر کے جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کرنا ممکن نہیں۔اساتذہ کی رائے ہے کہ سفارشات مانگ کر انہیں شامل نہ کرنا نصاب سازی کے عمل کو مشکوک بناتا ہے۔