اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے اتفاق رائے سے پاکستان کی ایک قرار داد منظور کی، جس میں ان اقوام اور عوام کے حقِ خود ارادیت کو دوبارہ اجاگر کیا گیا ہے، جو اب بھی نوآبادیاتی، غیر ملکی اور اجنبی تسلط کے زیرِ اثر ہیں۔
پاکستان نے اس موقع پر واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ اپنے مقاصد اور اصولوں کے مرکز میں اس حق کو رکھتی ہے۔یہ 65 ممالک کی مشترکہ پیش کردہ قرار داد، جسے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے پیش کیا، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں اتفاق رائے سے منظور کی گئی، جو سماجی، انسانی اور ثقافتی امور سے متعلق ہے۔قرار داد میں دنیا کی توجہ ان عوام کی جانب مبذول کرائی گئی ہے جو ابھی بھی اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جن میں فلسطین اور کشمیر کے عوام شامل ہیں۔ متوقع ہے کہ یہ قرار داد آئندہ ماہ جنرل اسمبلی سے توثیق کے لیے پیش کی جائے گی، اور 193 رکنی اسمبلی غیر ملکی فوجی مداخلت اور قبضے کی کارروائیوں کی سخت مخالفت کرے گی، جو اقوام اور عوام کے حقِ خود ارادیت کو دبانے کا سبب بنتی ہیں۔
پاکستانی مندوب عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ ابھی بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں غیر ملکی قبضے کے تحت رکھا گیا ہے اور ان کی اس بنیادی آزادی سے محرومی کا جواب طاقت کے استعمال، ماورائے عدالت قتل، حراست، جبری گمشدگیوں، رابطہ منقطع کرنے اور آبادیاتی انجینئرنگ جیسے حربوں سے دیا جا رہا ہے، جن میں غیر قانونی بستیاں بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ حقِ خود ارادیت، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں بنیادی اصول کے طور پر درج ہے، متعدد بین الاقوامی دستاویزات میں بھی تسلیم شدہ ہے، جن میں شہری، سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کا عہد بھی شامل ہے۔