پشاور میں پراپرٹی اسٹرکچر ٹیکس کو ختم کرنے کی سفارش: کمیٹی کی رپورٹ

پشاور میں پراپرٹی اسٹرکچر ٹیکس کو ختم کرنے کی سفارش: کمیٹی کی رپورٹ

ویب ڈیسک:وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر بنائی گئی کمیٹی نے پشاور میں پراپرٹی اسٹرکچر ٹیکس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔

 یہ کمیٹی ایس ایم بی آر (اسٹیٹ مانیٹری آف بزنس اینڈ ریونیو)، سابق ناظم گل زادہ، محمد علی ارباب، حاجی سعید اور ڈی سی پشاور پر مشتمل تھی۔کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، پشاور میں پراپرٹی اسٹرکچر ٹیکس کی لاگت میں اس قدر کمی واقع ہوئی کہ ریونیو 60 کروڑ روپے سے کم ہو کر 6 کروڑ روپے تک آ گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ ٹیکس کا نظام مزید غیر موثر ہو گیا۔ کمیٹی نے اسٹرکچر ٹیکس کے نفاذ کو 1899 کے اسٹامپ ایکٹ کے تحت لگایا گیا، اور اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی تجویز کی ہے کہ اسے ختم کر دیا جائے۔

کمیٹی نے یہ بھی بتایا کہ اسٹرکچر ٹیکس کو ڈپٹی کمشنر نے نافذ کیا تھا، لیکن اس ٹیکس کے نفاذ کے بعد حکومت کی جانب سے حاصل کردہ ریونیو میں بہت زیادہ کمی آئی، جس سے ٹیکس کے اثرات اور فوائد پر سوال اٹھایا گیا۔ اس لیے کمیٹی نے یہ سفارش کی کہ یہ ٹیکس ختم کر دینا چاہیے تاکہ پشاور میں اقتصادی اور تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔یہ اقدام خیبر پختونخوا کی حکومت کے لیے ایک اہم فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف عوامی سطح پر ٹیکس کی بوجھ میں کمی آئے گی بلکہ حکومتی ریونیو کے دیگر ذرائع کے بارے میں بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔