قومی صحت کمیٹی کی سفارش: سیٹیں خالی رہنے پر میڈیکل کالجز میں میرٹ کم کرنے کی تجویز

قومی صحت کمیٹی کی سفارش: سیٹیں خالی رہنے پر میڈیکل کالجز میں میرٹ کم کرنے کی تجویز

اسلام آباد: میڈیکل کالجز میں میرٹ کم کرنے کے باوجود خالی رہ جانے والی سیٹوں کے سبب پاسنگ مارکس 50 فیصد رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

 قومی اسمبلی کی قومی صحت کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس مہیش کمار کی صدارت میں ہوا، جس میں بعض کالجز کی جانب سے زائد فیس وصولی کی شکایات کا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ میڈیکل کالجز سالانہ 18 لاکھ تک فیس لے سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ کالجز فیس زیادہ وصول کر رہے ہیں، اور ان کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرٹ کم کرنے کے بعد بھی سیٹیں خالی رہتی ہیں، اس لیے پاسنگ مارکس 50 فیصد رکھنا مناسب ہوگا اور پی ایم اینڈ ڈی سی کے انٹری ٹیسٹ کے سوالات کی سختی کم کی جائے۔وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ 61 کالجز نے فیس بڑھانے کی درخواست دی ہے، مگر کوئی بھی کالج اپنی مرضی سے فیس نہیں بڑھا سکتا۔ ان میں سے 35 کالجز نے فیس بڑھانے کے لیے شرائط پوری کی ہیں، جبکہ باقی کالجز کو فیس بڑھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

 صدر پی ایم ڈی سی نے کہا کہ جن کالجز کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہیں، انہیں نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جہاں فیس 35 لاکھ ہے، وہاں سیٹیں خالی نہیں ہیں، اور اگر فیس کا مسئلہ ہوتا تو زیادہ فیس لینے والے کالجز کی سیٹیں بھی خالی ہوتیں۔ صدر پی ایم ڈی سی نے بتایا کہ پنجاب کے سرکاری کالجز کی 468 سیٹیں اور فاٹا کی 315 سیٹیں بڑھائی گئی ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین نے استفسار کیا کہ سندھ کی کتنی سیٹیں بڑھی ہیں؟ جس پر صدر پی ایم ڈی سی نے کہا کہ سندھ کی سیٹیں نہیں بڑھائی گئیں کیونکہ وہاں درخواست نہیں آئی۔