بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے جانے والے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو اسلام آباد کے 26 نمبر چونگی کے مقام پر روک لیا گیا، جس کے بعد اسلام آباد پولیس اور وزیراعلیٰ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق سہیل آفریدی نے پولیس اہلکاروں سے مکالمے کے دوران سخت جملے استعمال کرتے ہوئے کہا کہ “تم پاکستان کو توڑنا چاہتے ہو، تم ساڑھے 4 کروڑ عوام کے نمائندے کو کیوں روک رہے ہو”۔ انہوں نے راستہ کھولنے کا مطالبہ بھی کیا۔اس موقع پر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے بھی نعرے بازی کی گئی جبکہ پولیس نے 26 نمبر چونگی پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں لگا کر راستہ بند کر دیا۔ رکاوٹوں کے باعث ایئرپورٹ سے آنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور موٹروے پر ٹریفک کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔دوسری جانب اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کا وقت ختم ہو گیا، تاہم کسی بھی فیملی رکن یا وفد کی جیل آمد رپورٹ نہیں ہوئی۔ فہرست کے مطابق ملاقات کے لیے بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا، چنگیز خان کاکڑ، انتظار پنجوتھہ، علی رحمان اور علی اعجاز بٹر کے نام شامل تھے۔
ادھر ضلعی انتظامیہ نے اڈیالہ جیل کو ریڈ زون قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہاں سیاسی قافلوں، جلوسوں اور احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دفعہ 144 کے تحت خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کا بھی انتباہ جاری کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سہیل آفریدی نے ملاقات نہ کروانے پر سخت ردعمل کی دھمکی دی تھی، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور پارٹی رہنماؤں کی جانب سے کارکنان کو آج اڈیالہ جیل پہنچنے کی کال دی گئی تھی۔