ایران کے حملے سے قطر کا سب سے بڑا گیس پلانٹ تباہی کا شکار

ایران کے حملے سے قطر کا سب سے بڑا گیس پلانٹ تباہی کا شکار

ایران کے میزائل حملوں سے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں موجود اہم گیس تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔

 تاہم قطر انرجی اور وزارت داخلہ نے کہا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔قطری وزارتِ خارجہ نے اس حملے کو ملک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور ایران کے سفارت خانے کے فوجی و سکیورٹی اہلکاروں کو ’پرسونا نان گراٹا‘ قرار دے کر 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔یہ پیش رفت ایران کی جانب سے اسرائیل کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد سامنے آئی، جب تہران نے خلیجی ممالک کی تیل و گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔را س لفان انڈسٹریل سٹی دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی پیداواری مرکز ہے، جو عالمی گیس سپلائی کا تقریباً 20 فیصد فراہم کرتا ہے، اس لیے اس حملے کے عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عالمی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے؛ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے قطر کے امیر اور امریکی صدر سے رابطہ کر کے توانائی اور شہری تنصیبات پر حملے روکنے کی اپیل کی ہے۔اس حملے کے بعد خطے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی کے تحفظ کے حوالے سے عالمی تشویش بڑھ گئی ہے، جبکہ قطر نے اپنے حفاظتی اقدامات مزید مضبوط کرنے کا اعلان کیا ہے۔