ترک انٹیلی جنس نے سرحدی علاقے کے قریب افغانستان سے سرگرم کالعدم تنظیم سے منسلک ایک اہم رکن کو گرفتار کیا ہے، جس کی شناخت احمد قازانجی کے طور پر کی گئی ہے اور اسے گروہ کا میڈیا چیف بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گرفتار شخص پر دہشت گرد گروہ کے لیے پروپیگنڈا، بھرتی اور تربیتی سرگرمیوں میں کردار ادا کرنے کے الزامات ہیں، جبکہ اس نے مبینہ طور پر تنظیمی نیٹ ورک اور تخریب کاری سے متعلق سرگرمیوں کا اعتراف بھی کیا ہے۔خبر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم بعض گروہ خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے مختلف ممالک اور فریقین کے اپنے الگ مؤقف بھی موجود ہیں۔پاکستان کی جانب سے بھی متعدد بار عالمی فورمز پر یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔ ان گروہوں میں داعش خراسان سمیت دیگر تنظیموں کا ذکر کیا جاتا رہا ہے۔یہ معاملہ خطے میں انسدادِ دہشت گردی اور سرحدی سیکیورٹی کے حوالے سے جاری وسیع تر بحث کا حصہ ہے، جس میں مختلف ممالک اپنی سیکیورٹی پالیسیوں اور خدشات کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔