افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی نے دوبارہ منظم ہونے اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے انہیں مواقع فراہم کر دیے ہیں، جس سے پاکستان سمیت خطے کے ممالک کی سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہے۔
معروف امریکی جریدے ساؤتھ ایشین وائسز کی رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے نظریات ایک جیسے ہیں اور دونوں ایک ہی ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ پاکستانی سرحد کے قریب سرگرم ہیں اور دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے محفوظ ٹھکانوں کا استعمال کر رہے ہیں۔پاکستان نے سرحد پار دہشتگردی کو روکنے کے لیے بارڈر کنٹرول اور سفارتی سطح پر متعدد اقدامات کیے ہیں، لیکن افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی نے ان کوششوں کو جزوی طور پر ناکام بنایا ہے۔ اسی تناظر میں حالیہ جوابی کارروائیاں، جو فتنہ الخوارج اور طالبان کے ٹھکانوں پر کی گئیں، پاکستان کی افغان پالیسی میں بڑی تبدیلی اور زیادہ مؤثر ردعمل کی نشاندہی کرتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہ صرف سیکیورٹی کے خطرات بڑھا رہی ہیں بلکہ علاقائی کشیدگی اور سفارتی تعلقات میں بھی تناؤ پیدا کر رہی ہیں۔ اس صورتحال کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام پر پڑ سکتا ہے۔