امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 18 جون 2025 کو وائٹ ہاؤس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل (فیلڈ مارشل) عاصم منیر کے اعزاز میں ایک پرائیویٹ لنچ کا انتظام کیا، جو علاقائی سفارتکاری میں ایک اہم سنگ میل تصور کی جا رہی ہے۔
اہم نکات
پہلی بار کوئی امریکی صدر پاکستانی آرمی چیف کا سرکاری طور پر اعزاز کرتا ہے: اس ملاقات سے قبل 2001 میں جنرل پرویز مشرف کا صدر بش کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی، لیکن اس وقت وہ وہ پاکستان کے صدر بھی تھے ۔
تھرڈ پارٹی میڈی ایشن کا دعویٰ:ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بھارت‑پاکستان جنگ کو روکا، اور کہا:بھارت نے ان دعووں کی سختی سے تردید کی، وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جنگ بندی براہ راست فوجی رابطوں کے نتیجے میں ہوئی ۔
ٹرمپ کا جذباتی انداز:
ملاقات میں صدر نے کہا:
غیر رسمی گفت و شنید:
گذارش: ٹرمپ نے عاصم منیر کو "جنگ نہ کرنے کے لئے" دعوت دی اور اس پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔
شام ایران–اسرائیل جنگ اور بحیرہ ہند میں تجارت کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا ۔
وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق کرپٹو کرنسی، معاشی تعاون، ایران کے ساتھ تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف اشتراک پر بھی گفتگو ہوئی ۔
پاکستان میں فیلڈ مارشل کی برتری:
عاصم منیر کو 20 مئی 2025 کو فیلڈ مارشل کے عہدے تک ترقی دی گئی تھی، یہ عہدہ پہلے صرف ایوب خان کو ملا تھا ۔
عالمی و علاقائی پس منظر
متنازع دعوے: ٹرمپ کا کہنا کہ جنگ بندی میں ان کا کردار رہا، بھارت نے اس کی تردید کی ۔
ایران–اسرائیل تنازعہ: امریکہ نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر پاکستان کو ثالثی کردار کی پیش کش کی; پاکستان نے ایران کا ساتھ بیان کیا ۔
تجارتی ڈائیلاگز: ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان دونوں سے تجارت کے آغاز کا ذکر کیا ۔
تاریخی اہمیت: یہ اولین ملاقات ہے جب ایک صدر نے فوجی سربراہ کو بغیر سیاسی نمائندوں کے کالعدم طور پر بلایا ۔
اس کا کیا مطلب؟
امید افزا سفارتی اشارہ: امریکہ‑پاکستان تعلقات میں نیا اعتماد، خاص طور پر سلامتی اور معاشی تعاون میں۔
بھارت کے خلاف ردعمل: بھارت نے ثالثی میں واشنگٹن کی کردار کی تردید کی، متنبہ کیا گیا کہ اس سے علاقائی سفارت کاری توازن متاثر ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی دو طرفہ حکمت عملی: پاکستان چین کے ساتھ عسکری تعلقات کے توازن میں امریکہ سے بھی بات چیت بڑھا رہا ہے ۔