وزیراعظم نے وفاقی بیوروکریٹس کو گریڈ 20 اور 21 میں ترقی دینے کے لیے 23 سے 27 دسمبر تک شیڈول کیے گئے سنٹرل سلیکشن بورڈ کی تشکیل کی منظوری دی۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بورڈ کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) اختر نواز ستی ہوں گے، جو چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن بھی ہیں۔
بورڈ کے اراکین
پارلیمانی اراکین: سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، ایم این اے جاوید حنیف خان۔
سرکاری افسران:پنجاب سے امداد اللہ بوسال (سیکریٹری خزانہ ڈویژن)
سندھ سے رابعہ جویریہ آغا (گریڈ 22 کی ریٹائرڈ افسر)
خیبر پختونخوا سے سید ظفر علی شاہ (سیکریٹری بحری امور ڈویژن)
بلوچستان سے غیاث الدین (گریڈ 22 کے ریٹائرڈ افسر)
دیگر اراکین:
بلحاظ عہدہ نامزد افسران میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سیکرٹری کابینہ ڈویژن، اور چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹری شامل ہیں۔
پولیس افسران کے کیسز
تمام صوبوں کے آئی جی پولیس اور وفاقی سیکرٹری داخلہ ترقی کے معاملات پر اجلاس میں شریک ہوں گے۔متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز بھی اپنے افسران کے کیسز کے موقع پر اجلاس میں موجود ہوں گے۔ڈی جی آئی بی اور ڈی جی آئی ایس آئی اپنے اداروں کے افسران کے ترقی کے کیسز کے وقت شرکت کریں گے۔
شیڈول
یہ اجلاس 23، 24، 26، اور 27 دسمبر کو چیئرمین ایف پی ایس سی کی زیر صدارت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے کمیٹی روم میں ہوگا۔ اجلاس میں سروس گروپوں کے علاوہ ایکس کیڈر افسران کو گریڈ 20 اور 21 میں ترقی دینے کی سفارشات مرتب کی جائیں گی، جن کی حتمی منظوری وزیراعظم دیں گے۔
زیر التوا ترقی کے مسائل
گزشتہ سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس اگست 2023 میں ہوا تھا، جس کے بعد ایک سال 4 ماہ سے یہ اجلاس منعقد نہیں ہو سکا۔ اس تاخیر کے باعث 400 سے زائد افسران ترقی کے منتظر ہیں، جن میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس، سیکرٹریٹ گروپ، پاکستان ریلوے، پاکستان پوسٹل سروس، اور دیگر گروپس کے افسران شامل ہیں۔قواعد کے مطابق: سنٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس سال میں دو بار ہونا چاہیے۔ لیکن گزشتہ سال کے بعد سے اب یہ اجلاس تاخیر کا شکار رہا، جس کے باعث افسران کی ترقی کا عمل رکا ہوا ہے۔