سابق برازیلین فٹبالر رابرٹو کارلوس نے اسلام قبول کرلیا، ترک میڈیا کا دعویٰ

سابق برازیلین فٹبالر رابرٹو کارلوس نے اسلام قبول کرلیا، ترک میڈیا کا دعویٰ

ساؤ پالو: برازیل کے سابق عالمی شہرت یافتہ فٹبالر رابرٹو کارلوس کے اسلام قبول کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم سابق فٹبالر کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

رابرٹو کارلوس کے مبینہ قبولِ اسلام کی خبر ترک حکمران جماعت کے رکن پارلیمنٹ علی شاہین کی جانب سے سامنے آئی۔ علی شاہین نے برازیل میں مسلم کمیونٹی کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے معلومات شیئر کیں۔

مسلم رہنما کا کیا دعویٰ ہے؟
علی شاہین کے مطابق ساؤ پالو میں برازیل کی مسلم کمیونٹی کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران انہیں شیخ جہاد حمادے نے بتایا کہ رابرٹو کارلوس گزشتہ کچھ عرصے سے ان کے رابطے میں تھے۔ترک رکن پارلیمنٹ کے مطابق شیخ جہاد حمادے نے بتایا کہ سابق فٹبالر تقریباً چار ہفتے قبل ان سے ملاقات کے لیے آئے تھے، جہاں مبینہ طور پر انہوں نے کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کیا۔علی شاہین نے اس مبینہ خبر پر رابرٹو کارلوس کو مبارکباد بھی دی اور ان کے اہل خانہ کے لیے امن، صحت اور خوشحالی کی دعا کی۔اس ملاقات کے موقع پر برازیل کی مختلف اسلامی تنظیموں کے نمائندوں کی موجودگی کا بھی بتایا گیا ہے۔

رابرٹو کارلوس کون ہیں؟
53 سالہ رابرٹو کارلوس فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین لیفٹ بیکس میں شمار ہوتے ہیں۔ برازیل کے لیے طویل عرصے تک کھیلنے والے سابق فٹبالر اپنی غیر معمولی رفتار، طاقتور شاٹس اور دفاعی صلاحیتوں کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔انہوں نے اپنے پروفیشنل کیریئر کا بڑا اور کامیاب حصہ اسپین کے معروف کلب ریال میڈرڈ میں گزارا۔ وہ ریال میڈرڈ کی اس ٹیم کا بھی حصہ رہے جس نے یورپی فٹبال میں کئی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔رابرٹو کارلوس نے 2007 میں ترک کلب فنرباغچے کو بھی جوائن کیا، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر کے ایک اہم مرحلے میں کھیل جاری رکھا۔

باضابطہ تصدیق کا انتظار
اگرچہ ترک رکن پارلیمنٹ اور برازیل کی مسلم کمیونٹی سے منسوب بیان کے بعد رابرٹو کارلوس کے قبولِ اسلام کی خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہے، لیکن خود رابرٹو کارلوس نے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔اس لیے فی الحال ان کے قبولِ اسلام کی خبر کو ایک دعویٰ یا رپورٹ شدہ اطلاع کے طور پر ہی بیان کیا جارہا ہے۔ سابق فٹبالر یا ان کے نمائندوں کی جانب سے تصدیق سامنے آنے کے بعد ہی اس خبر کی حتمی حیثیت واضح ہوسکے گی۔