کراچی سے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق، انمول عرف پنکی کے سہولت کار اور شریک ملزمان، ذیشان اور سہیل، نے اپنی ضمانت کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
ملزمان کا موقف ہے کہ وہ مائکرو فنانسنگ کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور ان کا انمول عرف پنکی یا منشیات فروشی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔درخواست کی سماعت کے دوران، عدالت نے پراسیکیوشن اور تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دونوں فریقین سے 26 اگست تک جواب طلب کر لیا ہے۔وکیل درخواست گزار نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس کی جانب سے پیش کردہ ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بدنیتی پر مبنی ہے اور یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری سے قبل کسی کو بھی علم نہیں تھا کہ وہ منشیات فروش ہے۔
وکیل نے یہ بھی بتایا کہ دونوں ملزمان کو گھر سے اغوا کر کے مقدمے میں شامل کیا گیا ہے، اور قبل ازیں سیشن عدالت نے بھی ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کی ہے۔اس تمام معاملے میں عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے کارروائی ملتوی کرتے ہوئے، مزید تفصیلات اور جواب طلبی کا اعلان کیا ہے۔ اس مقدمے کا فیصلہ تفتیش کے نتائج اور عدالت کے فیصلے پر منحصر ہے۔