ادارے ایک دوسرے کی عزت و توقیر کا خیال رکھیں ، چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن سفارشات دیتا ہے، پارلیمان کو حق ہے سفارشات دو تہائی اکثریت سے مسترد کرے
ملک کیسے چلے گا اس فیصلے کا اختیار پارلیمان کے پاس ہے، آئین میں کیا شامل ہوگا یہ پارلیمان طے کرے گی، اداروں کا احترام نہ ہوا تو نظام نہیں چلے گا
غیرت کے نام پر قتل کی اجازت تو شریعت میں نہیں ‘:اعظم نذیر تارڑکا سینیٹ میں اظہار خیال‘ 16 سال سے کم عمر افراد پر سوشل میڈیا اکائونٹس بنانے پر پابندی کا بل واپس
اسلام آباد (آئی این پی)چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس دوران بارش اور سیلاب سے جاں بحق افراد کیلئے سینیٹ میں فاتحہ خوانی سینیٹر نور الحق قادری نے کروائی ۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ میں 16 سال سے کم عمر افراد پر سوشل میڈیا اکانٹس بنانے پر پابندی عائد کرنے کا بل واپس لے لیا گیا، بل سینیٹر سرمد علی کی جانب سے واپس لیا گیا جبکہ سینیٹ میں بل واپس لینے کی تحریک منظور کرلی گئی۔اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بچوں کیروزگار کی ممانعت بل 2022 سینیٹ میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ، بل سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے پیش کیا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ادارے ایک دوسرے کی عزت و توقیر کا خیال رکھیں ، 2010 میں پارلیمان نے ججز اپائٹمنٹ کا میکنزم بنایا، ججز تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا نظام تشکیل دیا گیا، چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن سفارشات دیتا ہے، پارلیمان کو حق ہے سفارشات دو تہائی اکثریت سے مسترد کرے، پارلیمان نے بعد میں ججز تقرری کا نظام تبدیل کیا، اپوزیشن اور حکومتی نمائندے کمیشن کا حصہ ہیں، پارلیمانی نمائندے براہ راست تقرریوں میں شریک ہیں۔اعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ علی ظفر سمیت کئی پارلیمنٹرین کمیشن میں شامل ہیں، ملک کیسے چلے گا اس کے فیصلے کا اختیار پارلیمان کے پاس ہے، آئین میں کیا شامل ہوگا یہ پارلیمان ہی طے کرے گی، اداروں کے احترام میں ہی عزت ہے، اداروں کا احترام نہ ہوا تو نظام نہیں چلے گا، ملک کا نظام کیا ہوگا کیسے چلنا ہے فیصلہ پارلیمان کا کام ہے۔ان کا کہناتھا کہ صنفی بنیادوں پر تشدد کے اعدادوشمار تشویشناک ہیں، قانون سازی بہت احتیاط سے کی جانی چاہیے ، غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے اور ماں باپ عدالتوں میں خون معاف کردیتے ہیں ، غیرت کے نام پر قتل میں عدالت صلح کے باوجود عمر کی سزا سنا سکتی ہے ، غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں گواہوں کی ضرورت پڑتی ہے ، مدعی ، ملزم اور گواہ گھر کے ہوتے ہیں ، گواہ عدالت میں مکر جاتے ہیں ، غیرت کے نام پر قتل کی اجازت شریعت میں نہیں ہے ۔