پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے حالیہ مہینوں میں ایک نئی بلند ترین سطح پر پہنچ کر ایک مثبت اقتصادی رجحان کو ظاہر کیا ہے۔
مارچ 2025 میں ملکی آئی ٹی برآمدات 342 ملین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، جو نہ صرف ملکی معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ پاکستان کی آئی ٹی صنعت کے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اثرات کا بھی غماز ہے۔ایس آئی ایف سی (سپیشل انویسٹیگیشن فیسلٹی کونسل) کی معاونت سے آئی ٹی کے شعبے کی برآمدات میں مسلسل 18 ماہ اضافہ دیکھا گیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ شعبہ مسلسل ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ مالی سال 2025 کے ابتدائی نو ماہ میں آئی ٹی برآمدات 2.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو ایک متاثر کن اور تاریخ ساز کامیابی ہے۔پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں کی عالمی سطح پر موجودگی بھی بڑھ رہی ہے، جو نہ صرف عالمی منڈیوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کر رہی ہیں بلکہ ملکی معیشت کے لیے مزید مواقع پیدا کر رہی ہیں۔
’’اڑان پاکستان‘‘ حکمت عملی کے تحت حکومت نے آئی ٹی برآمدات کا ہدف 10 ارب ڈالر مقرر کیا ہے، جو کہ آئندہ سالوں میں پاکستان کی آئی ٹی صنعت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستانی حکومتی پالیسیوں اور روپے کی استحکام کی بدولت آئی ٹی برآمدات میں اضافے کا یہ عمل مزید تیز ہونے کی توقع ہے، اور وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا تھا کہ مستقبل میں آئی ٹی برآمدات میں مزید اضافہ ممکن ہے۔یہ ترقی پاکستان کی معیشت اور اس کی عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں اہم مقام حاصل کرنے کی جانب ایک قدم اور بڑھا رہی ہے، اور عالمی سطح پر پاکستان کی IT کمپنیوں کی کامیاب موجودگی پاکستان کی ٹیکنالوجی پالیسیوں کے تسلسل کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے۔