ترقی کی رفتار بڑھانے کیلئے آبادی کوکنٹرول کرنا ضروری ہے وزیرخزانہ

معیشت مثبت سمت میں گامزن ،پاکستان آئی ایم ایف پروگرام اورسٹرکچرل ریفامرز پر عملدرآمد کر رہا ہے، ‘آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کو سنجیدہ نہ لیا تو صورتحال سنگین ہوگی
پاکستان میں  40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، کچی آبادیاں بھی مسائل کا باعث بنتی ہیں، کچی آبادیوں کا کوئی ڈیٹا حکومت کے پاس موجود نہیں ہوتا: پاپولیشن کونسل کی تقریب سے خطاب
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیر خزانہ   سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے، پاکستان آئی ایم ایف پروگرام اور اسٹرکچرل ریفامرز پر عملدرآمد کر رہا ہے ، آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کو سنجیدہ نہ لیا تو سنگین صورتحال ہوگی ، زیادہ آبادی مسائل اور غربت کا باعث بنتی ہے لہذا ترقی کی رفتار بڑھانے کیلئے آبادی کا کنٹرول ناگزیر ہے اس کیلئے  بچوں کی افزائش میں پلاننگ کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اسلام آباد میں پاپولیشن کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر خزا نے کہا کہ  بڑھتی ہوئی آبادی مسائل کو جنم دیتی ہے، زیادہ آبادی مسائل اور غربت کا باعث بنتی ہے، آبادی کے حساب سے وسائل کا انتظام کرنا ہوتا ہے، آبادی اور معیشت ایک دوسرے سے جڑے چیلنج ہیں، پائیدار معاشی ترقی کیلئے متوازن آبادی ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آبادی اور کلائمیٹ چینج جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے، موجودہ جی ڈی پی گروتھ آبادی کی 2.5 فیصد کی ضروریات سے کم ہے، 2.55 فیصد آبادی کی گروتھ خطے کے دیگر ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہے، پاکستان میں تقریبا 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے اضلاع میں زیادہ متاثرہ لوگ شامل ہیں، ہمیں فوری طور پر 2.55 فیصد آبادی کی گروتھ میں کمی لانا ہوگی، دیہی علاقوں کے لوگوں نے شہروں میں کچی آبادی قائم کی ہوئی ہیں، کچی آبادیوں میں صاف پانی، صحت، چائلڈ اسٹنٹنگ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے بچوں کی افزائش میں پلاننگ کی ضرورت ہے، آبادی اور کلائمیٹ چینج کے مسائل کو سنجیدہ نہ لیا تو صورتحال سنگین ہوگی