’’ آئس ‘‘اور’’ڈانس گولیوں‘‘کے ہولناک پھیلا ئوکا انکشاف

نئی کیمیائی منشیات کے پھیلا ئو نے نوجوان نسل کو خطرے میں ڈال دیا 
لاہور(خصوصی رپورٹ) کاہنہ اور اس کے مضافات روایتی اور جدید کیمیائی منشیات کے خطرناک گٹھ جوڑ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں چرس، ہیروئن، افیون اور شراب کے ساتھ ساتھ آئس اورڈانس کی گولیوں کی فروخت دھڑلے سے جاری ہونے کا انکشاف ،مقامی سماجی حلقوں اور شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کاہنہ میڈیا کلب کوبتایا ہے کہ کاہنہ کے مختلف محلوں اور تعلیمی اداروں کے اطراف جہاں چرس اور ہیروئن کے پرانے اڈے کام کر رہے تھے، وہیں اب آئس اور ڈانس گولیاں بھی با آسانی دستیاب ہیں، روایتی منشیات کے ساتھ ساتھ ان نئی کیمیائی منشیات کے پھیلا ئو نے نوجوان نسل کو دوہرے خطرے میں ڈال دیا ہے، کیونکہ یہ سینتھٹک ڈرگز چند ہی خوراکوں میں انسانی دماغ کو مفلوج کر دیتی ہیں،علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ منشیات کے اس دوہرے جال کے باعث علاقے میں جرائم اور نوجوانوں کی اچانک اموات میں اضافہ ہوا ہے۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس کی مبینہ چشم پوشی کے باعث پرانے اور نئے منشیات فروش بغیر کسی خوف کے اپنا دھندا چلا رہے ہیں،اہلِ علاقہ نے آئی جی پنجاب اور اینٹی نارکوٹکس فورس سے مطالبہ کیا ہے کہ روایتی اڈوں کے ساتھ ساتھ کیمیائی منشیات کے ان نئے نیٹ ورکس کے خلاف بھی فوری طور پر بلاامتیاز گرینڈ آپریشن کیا جائے تاکہ علاقے کو اس سفید موت سے پاک کیا جا سکے