ایران نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابوظہبی کو اسرائیل کی پالیسیوں اور “سازشوں” کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے۔
اس بیان کے بعد خلیجی خطے میں نئی سفارتی کشیدگی کے خدشات سامنے آ گئے ہیں۔قطری میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر کے ملٹری سیکرٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ تہران کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط سے مکمل آگاہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایران نے ابوظہبی کے ساتھ تعلقات کے دروازے بند نہیں کیے، تاہم ایران کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔محسن رضائی نے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کی پالیسیوں اور منصوبوں کا حصہ نہیں بننا چاہیے، کیونکہ اس سے پورے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق ماضی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات بھی بعض ایرانی حملوں کی زد میں آ چکا ہے، جبکہ کچھ اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ یو اے ای نے ایران مخالف سرگرمیوں میں بالواسطہ کردار ادا کیا، تاہم ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی یو اے ای پر تنقید کر چکے ہیں۔ برکس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایران پر حملوں کے دوران یو اے ای نے خاموشی اختیار کی اور ایران مخالف پالیسیوں پر نظرثانی نہیں کی۔عباس عراقچی کے مطابق ایران نے سفارتی احترام کے باعث یو اے ای کا نام براہ راست نہیں لیا، تاہم توقع تھی کہ پڑوسی ممالک کم از کم حملوں کی مذمت ضرور کریں گے۔دوسری جانب اسرائیلی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے خفیہ طور پر یو اے ای کا دورہ کیا اور اماراتی قیادت سے ملاقاتیں کیں، تاہم یو اے ای حکام نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی کشیدگی خلیجی خطے میں سفارتی ماحول کو مزید کشیدہ بنا سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان تناؤ کا شکار ہے۔