مقبوضہ کشمیر: بھارتی پولیس کا پرامن خاتون پر وحشیانہ تشدد

مقبوضہ کشمیر: بھارتی پولیس کا پرامن خاتون پر وحشیانہ تشدد

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس کی بربریت کا ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس میں پُرامن کشمیری خاتون کو احتجاج کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

 یہ احتجاج ضلع دیوسر کلگام میں پراسرار اموات کے خلاف کیا جا رہا تھا، جس میں مقامی شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔رپورٹس کے مطابق، گزشتہ ماہ لاپتہ ہونے والے تین افراد میں سے ایک کی لاش قریبی ندی سے برآمد ہوئی تھی، اور پھر تین دن قبل اس کے بھائی کی لاش بھی اسی مقام سے ملی تھی۔ تاہم، تیسرا شخص ابھی تک لاپتہ ہے۔ ان پراسرار اموات کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر بھارتی فورسز نے حملہ کیا، اور پولیس اہلکار نے ایک خاتون پر شدید تشدد کیا۔ خاتون کو صرف احتجاج میں حصہ لینے پر لاتوں اور ڈنڈوں سے مارا گیا۔

پی ڈی پی رہنما التجا مفتی نے اس پولیس اہلکار کے غیر انسانی سلوک پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "پُرامن احتجاج کرنے والی خاتون پر پولیس کا وحشیانہ حملہ نہایت افسوسناک ہے اور اس سے عوام کا بھارتی فورسز پر اعتماد مزید کم ہوگیا ہے۔"مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35A کی غیر آئینی منسوخی کے بعد انسانی حقوق کی پامالی میں مزید اضافہ ہوا ہے، اور کشمیری عوام کے لیے امن کا قیام ایک خواب بن چکا ہے۔