گلگت بلتستان میں ججز کی تقرریوں سے متعلق کیس کی سماعت،گلگت بلتستان حکومت کی مشروط مقدمہ واپسی پر وفاقی حکومت کا موقف طلب
آئینی بنچ نے کرسچن کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف درخواست رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے خارج کر دی
سٹون کریشنگ کیس میں صوبائی حکومت کو رولز کی منظوری کیلئے ایک ماہ کا وقت ‘ہم نے لوگوں کے روزگار اور ماحولیات کو مدنظر رکھنا ہے:جسٹس جمال
اسلام آباد (آئی این پی )سرپم کورٹ کے آئینی بنچ کے رکن جج جسٹس جمال مندو خیل نے گلگت بلتستان میں ججز کی تقرریوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل بیٹھ کر مسئلہ حل کریں، کیا حکومتوں کو یہ بھی بتانا پڑے گا کیا کرنا ہے؟جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے مختلف مقدما ت پر سماعت کی۔سرپم کورٹ کے آئینی بنچ کے رکن جج جسٹس جمال مندو خیل نے گلگت بلتستان میں ججز کی تقرریوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ دونوں حکومتیں مل بیٹھ کر مسئلہ حل کریں، کیا حکومتوں کو بھی بتانا پڑے گا کیا کرنا ہے۔عدالت نے گلگت بلتستان حکومت کی مشروط مقدمہ واپسی پر وفاقی حکومت کا موقف طلب کر لیا اور سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کرتے ہوئے جی بی حکومت سے بھی تحریری موقف طلب کر لیا۔دریں اثناء آئینی بنچ نے کرسچن کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف درخواست رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے خارج کر دی۔دوران سماعت عدالت نے درخواست گزار خاتون وکیل کے رویے پر برہمی کا اظہار کیا۔ جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ "مسیحی برادری کے بہت سے لوگ اچھی نوکریوں پر بھی ہیں، وہ سی ایس پی افسران بھی بنتے ہیں۔مسیحی برادری کے بہت سے لوگ ایم این اے، ایم پی ایز اور سینیٹرز بھی ہیں۔ جہاں میرٹ پر آئیں، وہاں بہت سے لوگ ایوان میں بھی بیٹھے ہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ہم آپ کو آپ کے حق سے محروم نہیں کر رہے، بلکہ ایک طریقہ کار بتا رہے ہیں۔سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے اسٹون کریشنگ کیس میں خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو رولز کی منظوری کیلئے ایک ماہ کا وقت دیدیا۔عدالتی حکمنامے میں قرار دیا گیا ہے کہ کے پی حکومت کی جانب سے ایک ماہ کا وقت مانگا گیا، عدالت سے استدعا کی گئی کہ قوائد کی قومی ماحولیاتی کونسل سے منظوری کیلئے ایک ماہ کا وقت چاہئے۔ جب کہ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہم نے لوگوں کے روزگار اور ماحولیات کو بھی مدنظر رکھنا ہے،یہاں آئین پر عمل نہیں ہوتا آپ رولز کی بات کرہے ہیں