موساد سے رابطوں کا الزام، احمدی نژاد نے امریکی اخبار کی رپورٹ مسترد کر دی

موساد سے رابطوں کا الزام، احمدی نژاد نے امریکی اخبار کی رپورٹ مسترد کر دی

سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں ان پر اسرائیلی خفیہ ادارے موساد سے رابطوں اور تعاون کی کوششوں سے متعلق دعوے کیے گئے تھے۔

احمدی نژاد کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اخبار کی رپورٹ میں لگائے گئے تمام الزامات مکمل طور پر جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ ایسی خبریں عوامی رائے کو متاثر کرنے اور ایران میں اندرونی اختلافات کو ہوا دینے کے مقصد سے شائع کی جا رہی ہیں۔احمدی نژاد کے دفتر نے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ سابق صدر کو گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ نظر بندی سے متعلق خبر بھی غیر مصدقہ دعوؤں کو مضبوط کرنے کے لیے پیش کی گئی ہے۔واضح رہے کہ دی نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد نے حالیہ برسوں میں احمدی نژاد کو اسرائیل کے ساتھ تعاون پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں ایران کی مستقبل کی قیادت کے لیے ایک ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا اور وہ اس وقت گھر میں نظر بند ہیں۔تاہم سابق ایرانی صدر کے دفتر نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں من گھڑت قرار دیا ہے۔