یہ نہیں ہوسکتا حملہ کریں، سول نافرمانی کی تحریک چلائیں اور مذاکرات بھی ہوں، اگر آپ تلخی سے بات کریں گے تو تلخی ہی بڑھے گی، ابھی تک باضابطہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے:وزیردفاع
مذاکرات کیلئے کمیٹی بنائی ہوئی ہے، حکومت کمیٹی بنا کر ٹی او آرز طے کرے ،مذاکرات تب تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک مل کر نہ بیٹھیں :شیر افضل مروت کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال
اسلام آباد(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی جانب سے ’’ٹھنڈی ہوا کا جھونکا‘‘ آیاہے ، اگر آپ نے سول نافرمانی کرنی ہے تو کرلیں، دھمکیوں سے کام نہیں چلتا،یہ نہیں ہوسکتا حملہ کریں، سول نافرمانی کی تحریک چلائیں اور مذاکرات بھی ہوں۔منگل کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ میں نے کل بھی اس بات کی تصدیق کی تھی لیکن ابھی تک باضابطہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ یہ باتیں کمیٹی بن گئی ہے اور یہ ہوگیا ہے، اس سلسلے میں مثبت رد عمل تب ہی آسکتا ہے جب کوئی پیش قدمی ہوگی جب کہ شیر افضل مروت نے جو بات کی وہ خوشگوار ہوا کا جھونکا ہے، پہلی بار ادھر سے خوشگور ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا۔ دونوں سائیڈ سے افہام و تفہیم کی باتیں ہونی چاہئیں۔ نہوں نے کہا کہ ایوان میں اس طرح کی آوازیں اٹھتی رہیں تو بہت سارے مسئلے حل ہوں گے خواجہ آصف نے کہا کہ پیشگی شرائط پر مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ جبکہ رینجرز اور پولیس اہلکاروں کو کس نے شہید کیا؟ اس کی بھی مذمت ہونی چاہیے۔ چیزیں محبت اور پیار سے بڑھتی ہیں دھمکیوں سے نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے حلف لیا ہے اور پہلی ذمہ داری آئین کی ہے۔ سیاسی ذمہ داریاں آئینی ذمہ داریوں کے بعد آتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ تلخی سے بات کریں گے تو تلخی ہی بڑھے گی، گن پوائنٹ پر مذکرات نہیں ہوسکتے، یہ نہیں ہوسکتا کہ حملہ کریں، سول نافرمانی تحریک چلائیں اور مذاکرات بھی ہوں‘دریں اثناء قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے کہامذاکرات کیلئے کمیٹی بنائی ہوئی ہے، حکومت کمیٹی بنا کر ٹی او آرز طے کرے ،مذاکرات تب تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک مل کر نہ بیٹھیں ، وزیر دفاع خواجہ آصف کا بہت احترام ہے لیکن ان کی زبان بھی آگ اگلتی ہے۔ پورا ملک غیر یقینی صورتحال سے دو چار ہے۔ کل خواجہ صاحب نے کہا مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کو پہل کرنا پڑے گی لیکن اس کے لیے پہلے حکومت کو انا کے خول سے باہر آنا ہوگا۔شیر افضل مروت نے کہا کہ میڈیا مذاکرات کی بات کرتا ہے اور یہاں کہتے ہیں مذاکرات نہیں ہو رہے، قوم کے سامنے جھوٹ بولا جاتا ہے۔ سیاستدانوں میں ٹی او آرز طے ہی نہیں کیے جاتے کیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی ہوئی ہے، کیا ممکن نہیں کہ ٹی او آرز اور مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی بنائیں، ٹی او آرز بنانے کے بعد اسٹیبلشمنٹ سے بھی بات ہوسکتی ہے۔