تمام فوجی آپریشنز کو فوری طور پر بند کیا جائے، انسانی و مالی نقصانات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے عدلیہ کی نگرانی میں ٹروتھ کمیشن تشکیل دیا جائے
نام نہاد ’’ڈیتھ سکواڈز‘‘ اور غیر قانونی مسلح جتھوں کا خاتمہ کیا جائے، 18ویں ترمیم پر عمل درآمد اور صوبوں کو جائز اختیارات دیئے جائیں:اعلامیہ
اسلام آباد(آن لائن ) عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری بدآمنی کے خلاف منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ،اے پی سی میں 19سیاسی جماعتوں کی شرکت ،سیاسی جماعتوں نے صوبوںمیں فوجی اپریشن کی مخالفت ،18ویں ترمیم پر عمل درآمد اور صوبوں کو جائز اختیارات دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں جاری عوامی نیشنل پارٹی کی زیرِ اہتمام منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے پارٹی کے صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہاکہ اے پی سی میں شامل جماعتوں نے پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری بدامنی، دہشت گردی اور آئینی حقوق کی پامالی کو ماضی کی ناقص داخلی و خارجی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے اور تمام شریک جماعتیں اس امر پر متفق ہیں کہ جمہوریت، آئین کی بالادستی اور صوبوں کے جائز حقوق کے بغیر پاکستان میں پائیدار امن و ترقی کا حصول ممکن نہیں ہے اس سلسلے میں کانفرنس نے درج ذیل نکات پر اتفاق کیا ہے کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور بدامنی کی ہر شکل کی شدید مذمت کی جاتی ہے ان مسائل کو ناقص حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ان کے خاتمے کے لیے جامع اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے اعلامئے کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری تمام فوجی آپریشنز کو فوری طور پر بند کیا جائے۔ انسانی و مالی نقصانات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے عدلیہ کی نگرانی میں ایک ٹروتھ کمیشن تشکیل دیا جائے اعلامئے کے مطابق نام نہاد "ڈیتھ اسکواڈز" اور غیر قانونی مسلح جتھوں کا فوری خاتمہ کیا جائے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اعلامئے کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عمل درآمد کیا جائے تاکہ صوبوں کو ان کے جائز اختیارات حاصل ہوں اعلامئے کے مطابق غیر آئینی اداروں، خصوصا اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کو فوری طور پر تحلیل کیا جائے اعلامئے کے مطابق نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ پر آئین کے مطابق مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اعلامئے کے مطابق معدنیات اور وسائل کے حوالے سے 18ویں آئینی ترمیم کے مطابق صوبوں کے حقوق کو تسلیم کیا جائے اعلامئے کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹس اور انتقالات کو منسوخ کیا جائے اور قبائلی عوام کے تاریخی اراضی حقوق کو تسلیم کیا جائے