پی ٹی آئی نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا‘ بلوچستان‘خیبرپختونخوا میں فوجی آپریشن کی مخالفت

فیصلہ کیا   تحریک انصاف کا کوئی نمائندہ اجلاس میں نہیں جائے گا، علی امین گنڈاپور بطور وزیراعلی شریک ہوں گے:سلمان اکرم راجہ 
 غیر آئینی وزیراعظم کی دعوت پر قومی سلامتی کے اجلاس میں کیسے جائیں؟محمود اچکزئی ‘ اجلاس نہیں بلانا چاہیے تھا:صاحبزادہ حامد رضا
اسلام آباد(آئی این پی )پی ٹی آئی نے  منگل کو  پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ  کردیا ۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ غیر آئینی وزیراعظم کی دعوت پر قومی سلامتی کے اجلاس میں کیسے جائیں؟۔  پی ٹی آئی  کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہم نے فیصلہ کیا ہے  تحریک انصاف کا کوئی نمائندہ اجلاس میں نہیں جائے گا، علی امین گنڈاپور بطور وزیراعلی شریک ہوں گے۔اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین کے رہنمائوں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ہم نے اس اجلاس میں شریک ہونے سے انکار کر دیا ہے، یہ فیصلہ ہم نے گزشتہ روز سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا، تحریک انصاف کا کوئی نمائندہ اجلاس میں نہیں جائے گا تاہم علی امین گنڈا پور بطور وزیر اعلی خیبر پختونخوا اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ ہم اس وقت کسی بھی آپریشن کے حق میں نہیں ہیں، 77 سالوں سے ان حالات کا شکار ہیں اور ان حالات کے حق میں نہیں ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو پے رول پر رہا کیا جائے، ہم نے اس ملک کو ٹھیک کرنا ہے اور فسطائیت کا خاتمہ کرنا ہے۔اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب کا کہنا تھا کہ میں نے کل سپیکر قومی اسمبلی کو مشروط خط لکھا ہے، ہمیں کورٹ آرڈر کے ساتھ بھی بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں دیا جاتا ہے، کل ایک اچانک قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا، اچانک اجلاس بلایا گیا مگر ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ غیر آئینی وزیراعظم کی دعوت پر قومی سلامتی کے اجلاس میں کیسے جائیں؟ پاکستان انتہائی خطرناک دور سے گزر رہا ہے، دوران الیکشن رات 9 بجے کے بعد جیتی پارٹیوں کو زور پر ہرایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ اداروں نے حلف لیا ہوا ہے کہ ہم نے پاکستان کی خدمت کرنی ہے