"امن "صرف اک خواب

محمد تسنیم رضا
اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر کی دو متضاد قوتوں کے امتزاج سے پیدا کیا ہے، یہی دونوں قوتیں انسانی رویے اور اس کی اجتماعی تاریخ کی بنیاد ہیں۔ جب انسان خیر کو اختیار کرتا ہے تو دنیا میں عدل و انصاف، سکون اور بھائی چارہ قائم ہوتا ہے، مگر جب شر کو اپنا لیتا ہے تو ظلم و جبر، قتل و غارت اور بدامنی کا طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر یہ حقیقت بیان کی ہے کہ زمین پر ہمیشہ ایسے سرکش موجود رہیں گے جو فساد پھیلائیں گے اور ان کی سرکوبی کے لیے عملی تیاری ضروری ہے۔ سورۃ الانفال میں ارشاد ہے: "اور ان کے مقابلے کے لیے جتنی طاقت اور جتنے باندھے ہوئے گھوڑے تم سے ممکن ہوں تیار رکھو تاکہ اس سے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو ڈرا سکو"۔ یہ حکم محض ایک دینی نصیحت نہیں بلکہ ایک اٹل حقیقت کا اعلان ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ کبھی ختم نہیں ہوں گے جو شر کو اپنا کر امن کو تباہ کریں گے، اسی لیے جنگ کی تیاری ہر دور میں ناگزیر ہے۔
انبیاء￿  کرام کی جدوجہد بھی اسی حقیقت پر مبنی تھی۔ جب بھی زمین پر ظلم اور فساد بڑھا، انبیاء￿  کو بھیجا گیا تاکہ لوگوں کو حق کی طرف بلائیں اور شر کے راستے سے روکیں۔ ان کی دعوت کا پہلا مرحلہ ہمیشہ پرامن رہا — تبلیغ، نصیحت، حکمت اور نرم انداز۔ مگر جب یہ پرامن کوششیں ناکام ہوئیں اور معاشرے میں امن قائم کرنے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والے اپنی سرکشی پر اتر آئے تو پھر جہاد کا حکم نازل ہوا۔ یہ جہاد کسی ذاتی مفاد، زمین یا مال کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کامقصد ظلم وستم کا خاتمہ کر کے "امن " کو قاء￿ م کرنا تھا لیکن ایسا جہاد اور جنگ و جدل صرفا انبیا ء￿  ہی کا خاصہ تھا۔ تاہم، انسانی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب قوموں میں  جنگ کا مقصد ذاتی اقتدار، وسائل پر قبضہ یا فتوحات کی ہوس بن گیا، تو وہ امن کے بجائے مزید تباہی لاتی رہی۔
کہا جاتا ہے کہ کرہ ارض پر انسانی تاریخ کی پہلی سرکشی ا ہابیل اور قابیل کے واقع سے شروع ہوء￿ ی اور اس کے بعد سے زر،زن اور زمین کے لیے جنگوں کا سلسلہ کبھی رکا نہیں۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں یونان کا فاتح سکندر مقدونی دنیا پر تسلط کے خواب لیے برصغیر پر حملہ آور ہوا۔ اس کا مقصد نہ کسی اصول کا غلبہ تھا اور نہ ہی انصاف کا قیام، بلکہ زمین، وسائل اور شہرت کی ہوس تھی۔ اس کی فتوحات نے وقتی طور پر یونانی اثرات ضرور پھیلائے مگر لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں اور تہذیبیں برباد ہوئیں۔ اس سے بھی پہلے وسط ایشیا سے آنے والے آریا برصغیر میں داخل ہوئے اور مقامی آبادی کو زیر کر کے اپنی تہذیب اور عقائد مسلط کر دیے۔ اسی طرح افغان حملہ آور صدیوں تک برصغیر پر حملہ ا?ور ہوتے رہے، اور ہر بار دولت اور طاقت ہی ان کا اصل محرک رہی۔احمد شاہ ابدالی کے لء￿ ے تو پنجاب میں ایک کہاوت بن چکی تھی "کھادا پیتا  لاہیے دا       باقی احمد شاہیے دا
مغل بادشاہ بابر نے 1526ء￿  میں پانی پت کی جنگ لڑ کر دہلی کی سلطنت پر قبضہ کیا۔ اگرچہ مغلوں نے فنِ تعمیر، ثقافت اور انتظامی نظام میں اپنی شناخت قائم کی، مگر ان کی آمد بھی اقتدار کے حصول کے لیے ہوئی تھی۔ تیرہویں صدی میں منگول حکمران چنگیز خان نے ایشیا اور یورپ کے بڑے حصے کو خون میں نہلا دیا۔ اس کی جنگی مہمات میں شہر جلا دیے گئے، بستیاں اجاڑ دی گئیں، لاکھوں انسان قتل ہوئے اور تہذیبیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ امن کا کہیں کوئی شائبہ نہ تھا، صرف خوف اور وحشت کی حکمرانی تھی۔
یورپ کی تاریخ بھی جنگ اور خونریزی سے بھری پڑی ہے۔ انگلینڈ اور فرانس کے درمیان سو سالہ جنگ ہو یا تیس سالہ مذہبی جنگ، ہر ایک نے لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد یہ کہا گیا کہ اب دنیا میں امن قائم ہو جائے گا، لیکن محض دو دہائیاں گزریں اور دوسری جنگ عظیم نے پہلے سے کہیں زیادہ تباہی مچا دی۔ کروڑوں لوگ مارے گئے، پورے شہر ملبے میں بدل گئے اور نئی سرحدیں کھینچ دی گئیں، مگر انسان کی سرکشی نہ ختم ہونی تھی نہ ہوئی۔ یہی نہیں، سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین نے دنیا کو ایک بار پھرایٹمی تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا۔
آج کے دور میں جنگ کے انداز نے ایک نیا رخ بھی اختیار کر  لیا ہے۔ اب براہِ راست ٹکراؤ کے ساتھ ساتھ پراکسی وارز بھی عام ہیں،  بڑی طاقتیں مختلف ممالک کے اندرونی گروہوں کو اسلحہ اور سرمایہ فراہم کر کے اپنے مفادات پورے کرتی ہیں۔ بلوچستان میں بھارت کی بی ایل اے کو سپورٹ، مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور عراق کو آپس میں لڑوانا، صدام حسین کو کویت پر حملے کی شہہ دینا اور پھر اسی بہانے عراق پر قبضہ کر کے اس کے وسائل لوٹنا  یہ سب اسی پالیسی کی مثالیں ہیں۔ کوریا، ویتنام، افغانستان اور افریقہ کے کئی ملکوں میں پراکسی وارز کے ذریعے لاکھوں لوگ موت کا شکار ہوچکے ہیں۔ان جنگوں اور پراکسی وار کے پیچھے وہ سب ممالک ہیں جن کی معیشت اسلحے کی فروخت سے فروغ پاتی ہے
 دنیا میں سب سے زیادہ منافع بخش صنعت اب اسلحے کی ہے۔ اگر امن قائم ہو جائے تو یہ صنعت ختم ہو جائے گی اور بہت سے ممالک کی معیشت بیٹھ جائیگی، خاص طور پر یورپی ممالک کی۔ یہی وجہ ہے کہ امن کی بات کرنے والے بھی پس پردہ جنگ کے حالات برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ حال ہی میں بھارت نے فرانس سے اربوں ڈالر کے رافیل طیارے خریدے اور مزید 68 ہزار کروڑ کا اسلحہ روس، امریکہ اور یورپ سے خریدنے کا اعلان کیا۔ اگر واقعی امن عالمی ترجیح ہوتا تو یہ سودے نہ صرف غیر ضروری بلکہ مضحکہ خیز سمجھے جاتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ خرید و فروخت عالمی طاقتوں کی معیشت کا لازمی حصہ ہے۔ اسی طرز پر مشرقِ وسطیٰ میں اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدیر  ہر سال ہوتے ہیں اور ان کا براہِ راست تعلق خطے کی کشیدہ صورتحال سے ہے۔اور اس کشیدگی کی بڑی وجہ انہی عالمی طاقتوں کی سرپرستی ہے جو وہ اسراء￿ یل کی کرتے ہیں اگر وہ اپنا ہاتھ اسراء￿ یل کے سر سے اٹھا لیں تو مشرق وسطی کے ممالک چند ہی روز میں اسراء￿ یلی مسء￿ لے کو حل کرلیں گے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدوں کیسے ہوں گے اور ان ممالک کی معیشت کیسے چلے گی  "امن "تو ان کی تجارت کے لء￿ ے زہر قاتل ہے حالیہ یوکرین جنگ، جہاں اسلحے کے بدلے معدنی وسائل کے سودے کیے جا رہے ہیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ امن کے نعروں کے پیچھے اصل کھیل طاقت اور معیشت کا ہے۔
یہ سب حقائق مل کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ دنیا میں مکمل اور دائمی امن نہ کبھی قائم ہوا ہے، نہ ہے، اور نہ ہو سکتا ہے۔ قرآن، تاریخ اور انسانی فطرت تینوں اس حقیقت پر گواہ ہیں۔ اللہ نے انسان کو خیر و شر کی آمیزش کے ساتھ پیدا کیا ہے، اور جب تک شر کو اپنانے والے موجود ہیں"امن" تباہ ہوتا رہے گااورخیر کی پیروی کرنے والے امن کی قیام کی کوشش کرتے رہیں گے لیکن اس کا مکمل نفاز کبھی ممکن نہ ہو پاء￿ ے گا
یہی وجہ ہے کہ دانشور اور صاحبِ علم جب عالمی امن کے خواب دیکھتے ہیں تو وہ خواب ہی رہ جاتے ہیں۔ ان خوابوں کی تعبیر ممکن نہیں کیونکہ انسانی تاریخ کا ہر دور یہ بتاتا ہے کہ طاقت، دولت اور اقتدار کے لیے لڑائی ہمیشہ جاری رہے گی۔ وقتی اور علاقائی امن تو قائم ہو سکتا ہے، مگر ایسا عالمگیر سکون جس میں جنگ کا نام و نشان نہ ہو، یہ ایک مثالی تصور ضرور ہے مگر عملی حقیقت نہیں۔ امن کی اصل ضمانت صرف اس وقت تک ہے جب تک طاقت کا توازن قائم ہو اور ظالم کو یہ خوف ہو کہ اس کے ظلم کا جواب دیا جا سکتا ہے(حالیہ دنوں میں پاکستان کے ہاتھوں انڈیا کی پسپاء￿ ی اس کی ایک مثال ہے )۔ ورنہ امن، ہمیشہ کی طرح، صرف ایک خواب ہی رہے گا۔