ویب ڈیسک: لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج نے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فلک جاوید کی ضمانت منظور کرلی
عدالت کا تحریری فیصلہ، این سی سی آئی اے کی تحقیقات سے ثابت نہیں ہوتا کہ سوشل میڈیا پوسٹس سے ریاستی اداروں کے خلاف افراتفری پھیلی,ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے فلک جاوید کی دو صفحات پر مشتمل تحریری ضمانتی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ این سی سی آئی اے نے جو ٹویٹس کے سکرین شاٹس جمع کرائے ہیں، ان سے کسی بھی قسم کی ریاستی اداروں کے خلاف افراتفری یا انارکی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
عدالت نے مزید کہا کہ ملزمہ کا مقدمہ مزید انکوائری کا متقاضی ہے اور اس لیے اسے جیل میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔عدالت نے ملزمہ کی ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی ہے۔یاد رہے کہ فلک جاوید کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے مقدمہ درج کیا تھا، اور جوڈیشل مجسٹریٹ نے انہیں این سی سی آئی اے کے مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا تھا۔