اسکردو میں ایک واقعہ سامنے آیا ہے جس میں اسسٹنٹ کمشنر احسان الحق نے سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب انہوں نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ ایک شہری کو پولیو کے قطرے پلاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص مبینہ طور پر پہلے اپنے بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر چکا تھا۔واقعات کے مطابق، اس شخص نے پہلے اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی تھی، لیکن بعد میں اسسٹنٹ کمشنر احسان الحق نے دفتر بلا کر زبردستی بچے کو پولیو کے قطرے پلوائے۔ اس دوران، اس شخص اور اس کے بچے کو دفتر میں دیکھنے کے بعد، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس کارروائی کو عوامی تضحیک اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
مزید برآں، اسسٹنٹ کمشنر احسان الحق نے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے یہ اقدام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کے ہدایت پر کیا، اور ان کا مقصد کسی کو شرمندہ کرنا نہیں تھا۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی ہے کہ جو شخص پولیو کے قطرے نہیں پلواتا تھا، وہ محکمہ صحت کا ملازم ہے اور اس کے بچوں کو بھی پولیو کے قطرے نہیں پلوائے گئے تھے، کیونکہ فارم پر اس کا نشان "نہیں" تھا۔ جب شکایت ملی، تو اسسٹنٹ کمشنر نے دفتر بلا کر اس شخص اور بچے کو پولیو کے قطرے پلوائے، کیونکہ اس کا یہ جرم تھا کہ اس نے اپنے بچوں کی ویکسینیشن نہیں کروائی تھی۔یہ واقعہ عوامی سطح پر تنقید کا سبب بن گیا ہے، اور سوشل میڈیا پر اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔