افغان شہریوں کی گرفتاریوں میں 10 گنا اضافہ ریکارڈ

 بلوچستان کے چاغی اور کوئٹہ، اور پنجاب کے اٹک وہ سرفہرست 3 اضلاع ہیں، جہاں زیادہ تعداد میں گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں
اسلام آباد(آئی این پی )اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ بلوچستان کے چاغی اور کوئٹہ، اور پنجاب کے اٹک وہ سرفہرست 3 اضلاع ہیں، جہاں افغان سٹیزن کارڈ (اے سی سی) رکھنے والے یا غیر دستاویزی افغان شہریوں کی سب سے زیادہ تعداد میں گرفتاریاں یا حراست عمل میں آئی ہے، یہ کارروائیاں رواں سال کے 10 ماہ سے زائد عرصے میں ہوئی ہیں۔ یو این این سی آر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں گرفتاریوں اور حراست میں لینے کے واقعات کی تعداد سب سے زیادہ رہی، یکم جنوری سے 8 نومبر 2025 تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 971 افغان شہری گرفتار ہوئے، جب کہ 2024 میں 9,006 اور 2023 میں 26 ہزار 299 افغان شہری گرفتار کیے گئے تھے۔میڈیارپورٹ کے مطابق یو این ایچ سی آر کاکہناہے کہ2023 سے پہلے اے سی سی رکھنے والے یا غیر دستاویزی افغان شہریوں کی گرفتاریوں یا حراست کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں تھا، جنوری 2023 سے بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (آئی او ایم)  نے یہ ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کیا تھا۔2 سے 8 نومبر کے دوران کل 13 ہزار 380 افغان شہری گرفتار یا حراست میں لئیگئے، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 72 فیصد زیادہ ہیں، 2 سے 8 نومبر کے تمام واقعات میں 76 فیصد گرفتار شدگان اے سی سی ہولڈرز یا غیر دستاویزی افغان تھے، جب کہ پروف آف رجسٹریشن (پی او آر ) کارڈ رکھنے والے 24 فیصد تھے۔2 سے 8 نومبر تک کی رپورٹنگ مدت میں 41 فیصد گرفتاریاں بلوچستان میں اور 43 فیصد پنجاب میں ہوئیں۔یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق 15 ستمبر 2023 سے 8 نومبر 2025 تک مجموعی طور پر 17 لاکھ 23 ہزار 481 افغان شہری افغانستان واپس چلے گئے، 2 سے 8 نومبر کے دوران یو این ایچ سی آر اور آئی او ایم کے مطابق 55 ہزار 768 افغان شہری طورخم، غلام خان (خیبر پختونخوا )، چمن، بادینی اور بہرامچہ (بلوچستان) کے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے واپس افغانستان گئے۔2 سے 8 نومبر میں واپسی اور ملک بدری کے کیسز میں پچھلے ہفتے ( 26 اکتوبر تا یکم نومبر ) کے مقابلے میں بالترتیب 49 فیصد اور 75 فیصد اضافہ ہوا، جب 37 ہزار 448 افغانوں کی واپسی ہوئی تھی، جن میں 7 ہزار 733 ملک بدری والے شامل تھے، 2 سے 8 نومبر کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 55 ہزار 768 ہوگئی، جن میں 13 ہزار 548 ملک بدری کے واقعات تھے