ویب ڈیسک : اسرائیلی فوج نے کل رات ایک ہدف بنائے گئے فضائی حملے میں ایران کے علی شادمانی کو شہید کرنے کا اعلان کیا ہے، جنہیں ایران کا "وار ٹائم چیف آف اسٹاف" اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قریبی ترین عسکری ساتھی قرار دیا جاتا ہے ۔
حملے کی تفصیلات
IDF نے کہا کہ شادمانی کو خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر (مرکزی کمانڈ سینٹر) کے سربراہ کے طور پر حال ہی میں تعینات کیا گیا تھا، جہاں ان کی جانشینی غلام علی رشید کی ہلاکت کے بعد ہوئی تھی ۔حملہ تیز رات کے وقت کیا گیا، جو واحد فضائی حملے کے ذریعے ہوا، جسے فوجی قیادت نے ایکٹیو اور پریفیشن قرار دیا 。
ایران کا ردعمل اور خطے پر اثرات
ایران کی سرکاری حکومت نے اس واقعے پر اب تک کسی آفیشل ردعمل یا تردید جاری نہیں کی ۔اگر یہ دعوے درست ثابت ہو جائیں، تو:یہ ایران کی فوجی قیادت پر نکتہ چینی اور حملوں کی تیزی کو ظاہر کرتا ہے۔مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ ایک اعلیٰ کمانڈر کی شہادت عالمی سطح پر ردعمل بھی بھڑکا سکتی ہے۔
عالمی تجزیہ
ماہرین نے کہا ہے کہ شادمانی کا قتل، جو کہ نائب کمانڈر شعبہ آپریشنز بھی تھے، سے ایران کا فوجی ڈھانچہ متاثر ہوگا ۔IDF نے اسے مشرق وسطیٰ میں ایران کے حملوں کے ردعمل میں حساس ترین نوعیت کا اقدام قرار دیا ۔اس سے:ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں متوقع ہیں۔خطے میں امن و امان کا خطرہ واضح طور پر بڑھ گیا ہے۔
اگلے مراحل
اسرائیل نے اس اقدام کو نیوکلیئر عزائم اور ایران کی جارحیت کے خلاف ایک جوابی قدم بتایا ہے۔ایران کی جانب سے جوابی حملوں یا مزاحمتی کارروائیوں کی تیاریاں جاری ہیں۔عالمی طاقتیں، بشمول امریکہ اور اقوام متحدہ، اس صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔