جو پارٹی الیکشن میں حصہ نہ لے اور کوئی سیٹ نہ جیتے، وہ مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں،کسی رکن پر کسی پارٹی کو جوائن کرنے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی:ریمارکس
اصل سوال یہ ہے جو آزاد تھے انہوں نے سنی اتحاد کو جوائن کرلیاتھا، جنہوں نے سنی اتحاد کو جوائن کیا ان کی واپسی کیسے ہو سکتی ہے ،جسٹس امین الدین ‘سماعت آج بھی ہوگی
اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستیں نظرثانی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہاہے الیکشن کمیشن نے 41 میں سے 39 اراکین کی حد تک غلطی کی، جو پارٹی الیکشن میں حصہ نہ لے اور کوئی سیٹ نہ جیتے، وہ مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں، کسی رکن پر کسی پارٹی کو جوائن کرنے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی ،جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے ہیںکہ جو آزاد تھے انہوں نے سنی اتحاد کو جوائن کرلیاتھا، جنہوں نے سنی اتحاد کو جوائن کیا ان کی واپسی کیسے ہو سکتی ہے اصل سوال یہ ہے۔ جسٹس محمدعلی مظہر نے ریمارکس دیے کہ باوجود مواقع دینے کے انٹراپارٹی الیکشن نہ کرانے پر 13جنوری کا فیصلہ ہے،یہ کہنا کہ 13جنوری کے فیصلے کی وجہ سے آزاد نہیں تھے درست نہیں،کاغذات تو دسمبر میں داخل کئے گئے، الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی الیکشن کیلئے پی ٹی آئی کو 5سال دیئے،الیکشن کمیشن نے پارٹی کوسننے کے بعد انتخابی نشان الاٹ نہ کرنے کا فیصلہ دیا تھا، عدالت پوچھ رہی ہے کہ انتخابی نشان نہ ملنے سے جماعت ڈی رجسٹر نہیں ہو جاتی، سنی اتحاد نے نشستیں مانگیں لیکن اکثریتی یا اقلیتی فیصلہ میں غلط یا صحیح نشستیں پی ٹی آئی کو دے دیں،اس وقت آپ کی پوزیشن تبدیل ہے، اب آپ پی ٹی آئی کی طرف سے دلائل دے رہے ہیں،جب وہ پی ٹی آئی کے رکن بن گئے تو آپ کے نہیں رہے۔انھوں نے یہ ریمارکس پیرکے روزدیے ہیں۔سماعت آج منگل کوبھی جاری رہے گی۔ سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستیں نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی۔سپریم کورٹ میں مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو دینے کے خلاف دائر نظرثانی کیس کی سماعت آض پیر کو بھی ہوئی۔ سماعت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں گیارہ رکنی آئینی بنچ نے کی، جس کی کارروائی سپریم کورٹ کے یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کی گئی۔سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے اپنے دلائل دیے۔