ملک بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر نے شہریوں کو گرمی سے بچاؤ کے لیے مختلف متبادل اپنانے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث گھروں میں مصنوعی سوئمنگ پولز نصب کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
بازاروں میں مختلف سائز کے مصنوعی سوئمنگ پولز کی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔مارکیٹ میں اسمال، میڈیم، لارج اور جمبو سائز کے مصنوعی سوئمنگ پولز دستیاب ہیں، جنہیں گھروں کی چھتوں، لانز اور صحن میں آسانی سے نصب کیا جا سکتا ہے۔ ان پولز سے بچے اور بڑے یکساں طور پر لطف اندوز ہو رہے ہیں اور شدید گرمی میں ٹھنڈک حاصل کر رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ واٹر پارکس یا سوئمنگ کلبز جانے کے مقابلے میں گھر میں مصنوعی سوئمنگ پول لگانا زیادہ سستا، آسان اور محفوظ ثابت ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق پورا خاندان ایک ہی پول سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جبکہ سفر اور اضافی اخراجات سے بھی بچت ہوتی ہے۔
دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ مصنوعی سوئمنگ پولز کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق روزانہ بڑی تعداد میں گاہک مختلف سائز اور قیمتوں کے پولز خریدنے کے لیے مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں، جس کے باعث فروخت گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ اگر گھروں میں مصنوعی سوئمنگ پول استعمال کیے جائیں تو بچوں کو ہرگز تنہا نہ چھوڑا جائے اور ہر وقت کسی بالغ فرد کی نگرانی یقینی بنائی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔