ٹریفک سگنلز، سائنز، روڈ مارکنگ، یوٹرنز، بس اسٹاپس، اسپیڈ بریکرز اور پارکنگ کے مسائل شامل
لاہور(کرائم رپورٹر)ٹریفک کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے صرف جرمانوں میں اضافہ کافی نہیں بلکہ روڈ انفراسٹرکچر کی بہتری بھی ناگزیر ہے۔ٹریفک پولیس نے پنجاب بھر میں ٹریفک کی روانی اور حادثات کی روک تھام کے لیے روڈ انفراسٹرکچر سے متعلق 23 مختلف نوعیت کے مسائل کی نشاندہی کر دی ہے، جن میں ٹریفک سگنلز، سائنز، روڈ مارکنگ، یوٹرنز، بس اسٹاپس، اسپیڈ بریکرز اور پارکنگ کے مسائل شامل ہیں۔ٹریفک حکام کے مطابق لاہور کی 845 مختلف سائٹس پر ایک ہزار 878 مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کے حل سے شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح پنجاب بھر میں 5 ہزار 686 مقامات پر مجموعی طور پر ساڑھے 35 ہزار سے زائد مسائل سامنے آئے ہیں، جن کے بروقت حل سے ٹریفک مینجمنٹ میں نمایاں بہتری متوقع ہیڈی آئی جی ٹریفک پنجاب وقاص نزیر کی جانب سے ان تمام نشاندہی شدہ مسائل پر مبنی مراسلہ چیف سیکرٹری پنجاب کو ارسال کیا گیا تھا۔ مراسلے میں نشاندہی کی گئی سائٹس پر روڈ انفراسٹرکچر، سگنلز، سائنز، اسپیڈ بریکرز اور پارکنگ کے مسائل فوری طور پر حل کرنے کی سفارش کی گئی۔چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے اس مراسلے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں ٹریفک سے جڑے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کریں۔ ٹریفک حکام کے مطابق بڑے بجٹ کے حامل منصوبوں سے متعلق مسائل ڈپٹی کمشنرز چیف سیکرٹری آفس کو بھجوائیں گے تاکہ بروقت اور مؤثر اقدام ممکن بنایا جا سکیٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ موٹر وہیکل آرڈیننس کے بعد پنجاب بھر میں جرمانوں میں اضافہ اور کارروائیاں تیز کی گئی ہیں، تاہم سخت اقدامات کے ساتھ ساتھ حادثات کی روک تھام اور ٹریفک مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے روڈ انفراسٹرکچر میں بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے۔