بات چیت کا اختیارمحمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے پاس ہے ، مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے اعتماد کی فضا پیدا کرنا ہوگی:چیئرمین پی ٹی آئی کی میڈیا سے گفتگو
پارٹی پالیسی کا پابند ہوں ،پاکستان نے افغانستان کی بہت مدد کی ، ہمارا افغانستان سے جائز مطالبہ ہے ان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو :شاہ محمودقریشی
اسلام آباد‘لاہور(آئی این پی) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے اگر مذاکرات مقصود ہیں تو اس کے لیے پہلے اعتماد کی فضا قائم کرنا ہوگی، اور اس کی شروعات بانی پی ٹی آئی سے اہلِ خانہ اور پارٹی قیادت کی ملاقات کی اجازت دینے سے ہونی چاہیے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹرگوہر نے کہا کہ پہلے بھی ہم نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی ہے، اب مذاکرات کا اختیارمحمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے پاس ہے ، مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے اعتماد کی فضا پیدا کرنا ہوگی۔بیرسٹرگوہر نے کہا کہ پہلے بانی پی ٹی آئی سے فیملی اور لیڈر شپ کی ملاقات تو کرائیں، بشری بی بی سے ان کی فیملی کی ملاقات کرائیں، اگلے ہفتے ملاقات کا دن ہے امید ہیاس مرتبہ کرائی جائے گی۔ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مزاحمت کے بعد مفاہمت ہی ہوتی ہے،پارٹی پالیسی کا پابند ہوں ،مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا گیا ہے وہی بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں۔ انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت میں پیشی کے بعد کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کی بہت مدد کی ہے، ہمارا افغانستان سے جائز مطالبہ ہے کہ انکی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو۔افغانستان کی خوشحالی کا راستہ پاکستان سے افغانستان اگر استحکام چاہتا ہے تو اسے پاکستان سے اچھے تعلقات رکھنا ہونگے، ہم امن چاہتے ہیں افغانستان کو دہشتگردی کے خلاف ہمارا ساتھ دینا چاہیے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایران کے بارڈر پر فی لحال صورتحال کنٹرول میں ہے، ہم نے بھارت کو جنگ میں ہرایا، اللہ نے ہمیں عزت دی مگر ابھی تک بھارت سے خطرہ ٹلا نہیں ہے۔مذاکرات سے متعلق ایک سوال پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں پی ٹی آئی کا وائس چیئرمین ہوں، پارٹی پالیسی سے نہیں ہٹ سکتا، مگر یہ سوچنا ہوگا کہ آخر اسکا حل کیا ہے، مزاحمت کے بعد بھی تو مفاہمت ہی ہوتی ہے، گفت و شنید سے ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے