چین میں حکومت کی جانب سے قانون میں ترامیم اور پُرکشش مراعات کے باوجود آبادی کی شرح میں اضافہ نہ ہوسکا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی آبادی میں مسلسل تیسرے سال کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ چین کے قومی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے اختتام پر ملک کی آبادی 1.40 ارب رہی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 13 لاکھ کم ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 میں آبادی کی کمی کی رفتار، 2023 کے مقابلے میں قدرے سست رہی، لیکن یہ سلسلہ پچھلے کئی سالوں سے جاری ہے۔
تاریخی پس منظر
چین کی آبادی میں کمی کا رجحان 1980 کی دہائی میں شروع ہوا، جب ملک میں "ون چائلڈ پالیسی" نافذ کی گئی تھی۔ حالیہ برسوں میں اس پالیسی کو ختم کر کے حکومت نے ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف مراعات کا اعلان کیا۔
موجودہ صورتحال
1961 کے بعد پہلی بار 2022 میں شرح پیدائش اتنی کم ہوئی کہ مرنے والوں کی تعداد پیدا ہونے والوں سے زیادہ ہو گئی۔
حکومتی اقدامات
حکومت نے زیادہ بچے پیدا کرنے والے خاندانوں کے لیے مراعاتی پیکجز متعارف کرائے، لیکن ان اقدامات سے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوسکے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریوں کے بدلتے طرزِ زندگی، بڑھتی معاشی ذمہ داریوں اور دیر سے شادی جیسے عوامل آبادی میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو چین کو مستقبل میں شدید اقتصادی اور سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔