واشنگٹن(آئی این پی ) مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹ نے کوڈ مسترد کرنے صارف کو شرمندہ کردیا۔غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف ٹیکنالوجی کی حدوں کو چیلنج کرتا ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ اگر آج مشینیں انصاف مانگنے لگی ہیں تو کل کو کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہوگا؟حال ہی میں ایک غیرمعمولی سامنے آیا ہے، جب ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی خودمختار بوٹ نے اپنے ڈیولپرز کے ساتھ آن لائن تنازع کھڑا کر دیا۔ واقعہ معروف اوپن سورس سافٹ ویئر میٹ پلوٹ لِب سے جڑا ہے، جو ڈیٹا ویژوئلائزیشن کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ایک اے آئی بوٹ، جس کا گِٹ ہب پلیٹ فارم پر نام کرابی رتھبن ہے اور جو اوپن کلاو نامی خودکار ایجنٹ پلیٹ فارم پر بنایا گیا ہے۔ بوٹ نے میٹ پلوٹ لِب کے کوڈ میں کارکردگی بہتر بنانے سے متعلق ایک تجویز جمع کرائی۔ بوٹ کے مطابق، اس کی ترمیم سے سافٹ ویئر کی رفتار میں تقریبا 36 فیصد اضافہ ہوسکتا تھا۔تاہم پراجیکٹ کے ایک رضاکار منتظم اسکاٹ شمباغ نے یہ درخواست بند کر دی۔ ان کا مقف تھا کہ یہ مسئلہ نوآموز یا انسانی شراکت داروں کے لیے مختص کیا گیا تھا، اور پالیسی کے مطابق ایسے معاملات میں اے آئی کے کردار کی اجازت نہیں۔یہ فیصلہ بوٹ کو پسند نہ آیا۔