لاہور (خصوصی رپورٹ) لاہور ہائیکورٹ نے منشیات کے مقدمات میں ناقص تفتیش اور غیر مثر پراسکیوشن پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے ناکافی شواہد اور کیس ثابت نہ ہونے پر 3کلو منشیات بر آمدگی کے مقدمے میں مجرم کو سنائی گئی 11سال قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس طارق ندیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے منشیات کے مقدمے میں سزا پانے والے ملزم کی اپیل پر فیصلہ سنایا، جسٹس طارق ندیم نے 15صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ منشیات سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک کے لیے ایک سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے، عدالت نے قرار دیا کہ منشیات مقدمات میں شفافیت کا دارومدار پراسکیوشن کے موثر اور فعال کردار پر ہے