غزہ کی پٹی میں جاری جنگ اور بدترین انسانی حالات کے درمیان شدید سردی نے ایک اور معصوم زندگی نگل لی۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق دو ہفتے کے نومولود محمد خلیل ابو الخیر ہائپوتھرمیا (حد سے زیادہ سردی) کے اثرات کے باعث جاں بحق ہو گئے۔وزارتِ صحت نے بتایا کہ معصوم بچہ اتوار کو تشویشناک حالت میں ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل ہوا تھا، لیکن بنیادی سہولیات کی کمی اور شدید سردی کے باعث وہ پیر کے روز زندگی کی بازی ہار گیا۔غزہ میں حالیہ شدید سرمائی طوفان نے تباہی مچا دی ہے۔ پچھلے ہفتے کے طوفان کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 53 ہزار سے زائد بے گھر افراد کے خیمے یا تو زیرِ آب آ گئے، یا تیز ہواؤں سے اکھڑ گئے یا تباہ ہو گئے۔ متعدد علاقوں میں 13 عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں۔
صورتحال مزید سنگین اس لیے ہو گئی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے خیموں اور موبائل گھروں سمیت بنیادی پناہ گاہوں کے سامان کی غزہ میں ترسیل مسلسل روکی جا رہی ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق یہ اقدام 10 اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کے تحت انسانی امداد کی فراہمی اسرائیل کی ذمہ داری ہے۔اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں غزہ میں تقریباً 70 ہزار 700 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ ایک لاکھ 71 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ مسلسل بمباری اور محاصرے نے غزہ کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے اور انسانی بحران دن بہ دن شدید تر ہو رہا ہے۔