وفاقی آئینی عدالت نے بھارت اور اسرائیل کی کتابوں اور اشیاء کی درآمد پر پابندی سے متعلق نوٹیفکیشن کو قانونی طور پر درست قرار دے دیا، اور لاہور ہائیکورٹ کی ہدایات کو کالعدم قرار دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات ایگزیکٹو کا اختیار ہیں، جس میں عدلیہ مداخلت نہیں کر سکتی۔ جسٹس عامر فاروق نے ایک اکثریتی تحریری فیصلہ جاری کیا، اور جسٹس علی باقر نجفی نے اضافی نوٹ لکھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ حکومت کا اختیار ہے کہ وہ کن ممالک سے تجارتی تعلقات رکھتی ہے، اور قانون کی کتابیں سستی ملنے کے باوجود خارجہ پالیسی کی وجہ سے ان پر پابندی برقرار رہے گی۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پڑھنے کا حق بنیادی انسانی حق ہے اور آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت اسے اہم قرار دیا گیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے بھارت سے قانون کی کتابیں منگوانے کا حق تسلیم کیا تھا، مگر وفاقی حکومت نے 2019 میں بھارت سے تمام تجارت پر پابندی عائد کی تھی۔ عدالت کا یہ فیصلہ اس تناظر میں آیا ہے کہ علم کے حق کو محدود نہیں کیا جا سکتا اور پابندی خارجہ پالیسی کا معاملہ ہے۔