باجوڑ : 250 دہشتگرد موجود ، آپریشن 3 ہفتے میں مکمل کرنیکاہدف

22 ہزار500 خاندانوں کی نقل مکانی ، ماموندکے بڑے علاقے سے انخلا نہ ہوسکا
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ٹارگٹڈ آپریشن آئندہ تین ہفتوں میں مکمل کئے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ باجوڑ کی تحصیل ماموند میں 250 سے زائد دہشتگردوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جس میں افغانوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والے اس آپریشن کو اکتوبر کے پہلے ہفتے مکمل کر لیا جائے گا۔ باجوڑ کی اس تحصیل سے 22 ہزار500 خاندانوں کی عارضی نقل مکانی ہوئی ہے مگر جو علاقے کلیئر ہوتے جا رہے ہیں وہاں مقامی رہائشیوں کو واپس لایا جارہاہے اور اب تک ساڑھے چار ہزار سے زائد خاندان کلیئر علاقوں میں واپس اپنے گھروں کو آچکے ہیں مگر ابھی بھی ماموند تحصیل کے ایک بڑے حصے سے نقل مکانی نہیں ہوئی۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ تحصیل ماموند میں موجود خوارج ماموند کی وادی میں مقامی آبادی کے درمیان رہ رہے ہیں جنکے خلاف آپریشن میں کولیٹرل ڈیمیج سے بچنے کیلئے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق جب دہشتگرد آبادی کے اندر رہتے ہوئے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں تو عام شہریوں کی جا ن بچاتے ہوئے کولیٹرل ڈیمیج سے بچنے کیلئے سکیورٹی فورسز انکو موثر طریقے سے نشانہ نہیں بنا سکتیں۔ باجوڑ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کو ایک ماہ میں مکمل کیے جانے کا ہدف تحصیل ماموند کے رہائشیوں کے تعاون سے مشروط ہے۔ اس صورتحال میں مقامی آبادی کیلئے تین آپشنز بچتے ہیں ، مقامی آبادی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو موثر بنانے کیلئے عارضی طور پر علاقہ خالی کر دے یا دہشتگردوں کو اپنے علاقوں سے نکل جانے پر مجبور کر دے یا کولیٹرل ڈیمیج برداشت کرنے کی ذمہ داری اٹھائے۔ باجوڑ کی تحصیل ماموند میں 35 دیہات ایسے ہیں جہاں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع تھی جن میں سے 10کلیئر کروا لئے گئے باقی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن 2008 کے آپریشن کی طرح نہیں ہے بلکہ صرف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ باجوڑ کی باقی چھ تحصیلوں میں صورتحال تحصیل ماموند سے بالکل مختلف ہے جہاں زندگی معمول کے مطابق جاری ہے مگر سکیورٹی فورسز نے تحصیل ماموند کو گھیرے میں لے رکھا ہے تاکہ افغانوں سمیت دہشتگردوں کو دیگر علاقوں میں جانے سے روکا جا سکے۔ ضلع باجوڑ کی تحصیل ماموند چونکہ افغانستان کے صوبے کنڑسے متصل ہے جہاں سے افغانوں کی بڑی تعداد سرحد پار کرکے تحصیل ماموند پہنچتی ہے۔