لاہور ہائیکورٹ میں سی سی ڈی کے قیام کو چیلنج، درخواست میں ترمیم کی مہلت

لاہور ہائیکورٹ میں سی سی ڈی کے قیام کو چیلنج، درخواست میں ترمیم کی مہلت

لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب حکومت کے تحت قائم کردہ سی سی ڈی (کاؤنٹر کرائم ڈیپارٹمنٹ) کے قیام کو چیلنج کر دیا گیا ہے۔

درخواست گزار ایڈووکیٹ میاں شاہد محمود نے مؤقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی کا قیام پولیس آرڈر 2002 کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے اور اس کا وجود غیر قانونی قرار دیا جائے۔چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد وقاص عمر عدالت میں پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست میں پیرا نمبر 2 اور 25 کے مطابق پولیس آرڈر 2002 میں ترامیم کی نشاندہی کی گئی ہے یا نہیں؟درخواست گزار وکیل نے مؤقف اپنایا کہ حکومت نے پولیس آرڈر میں ایسی ترامیم کی ہیں جو اس کے بنیادی اسٹرکچر کے منافی ہیں، اسی بنیاد پر سی سی ڈی کے قیام کو چیلنج کیا گیا ہے۔

وکیل نے مزید بتایا کہ سی سی ڈی اب تک تقریباً سات سو مبینہ پولیس مقابلے کر چکا ہے، مگر ان کی تفصیلات عوام یا عدالت کے سامنے فراہم نہیں کی گئیں۔اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ یہ معلومات کہاں سے لی گئیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ یہ ڈیٹا سوشل میڈیا ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو قانونی نکات آپ چیلنج کر رہے ہیں، پٹیشن کو ان کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔بعد ازاں عدالت نے وکیل کو پٹیشن میں ترمیم کے لیے مہلت دے دی اور مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔