جنگ کا تیسرا دن ایران، اسرائیل کے میزائل حملے جاری

ایران کے حملوں سے 14 اسرائیلی ہلاک، 200 زخمی، جواب میں اسرائیل نے سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا 
 حملوں میں اسرائیلی جوہری تنصیبات ڈیمونا اورگولان کی پہاڑیاں نشانہ ، 40 اسرائیلی ڈرونز مارگرانے کادعویٰ
تہران ،تل ابیب ،واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران اور اسرائیل نے تیسرے روز بھی ایک دوسرے پر میزائل اور فضائی حملے جاری رکھے ،ایران کے حملوں میں 14اسرائیلی ہلاک اور 200سے زائد زخمی ہوگئے ،اسرائیل نے گزشتہ روز تہران میں سرکاری عمارتوں کونشانہ بنایاجبکہ ایران میں مرنے والوں کی تعداد 128تک جاپہنچی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناہے کہ وہ جلد پاکستان اور بھارت کی طرح اسرائیل اور ایران کا امن معاہدہ کروا دینگے جبکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہاہے کہ اسرائیلی حملے امریکی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھے، اسرائیل کے حملوں میں امریکا برابر کا شریک ہے، اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔تفصیلات کے مطابق کشیدگی کے تیسرے روز ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی نئی بارش کر دی، 100 سے زائد میزائل تل ابیب اور حیفا پر داغ دئیے،جس سے دھویں کے بادل چھاگئے اور متعدد عمارتیں کھنڈر بن گئیں، وسطی اسرائیل بھی دھماکوں سے گونج اٹھا،میزائل حملوں میں اسرائیلی جوہری تنصیبات ڈیمونا کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو تیل فراہم کرنے والی تنصیبات بھی نشانہ بنائی گئیں،اب تک 10اسرائیلی ہلا ک اور200سے زائد زخمی ہوچکے ہیں، ایرانی حملوں کے بعد سے 35 شہری لاپتہ بھی ہیں۔میزائلوں کے حملے کے بعد تل ابیب اور بیت المقدس میں سائرن کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس کی وجہ سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ایرانی سکیوٹی ذرائع کے مطابق اسرائیل پر عماد، غدر اور خیبرشکن میزائلوں سے حملہ کیاگیا۔اسرائیل نے ایرانی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے شمالی حصے میں ایران کے جنگی طیارے دیکھے گئے۔ایرانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 128 افراد جاں بحق اور 900 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں جبکہ جاں بحق اور زخمیوں میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔اسرائیل نے تہران کے رہائشی علاقوں سمیت متعدد شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس سے عام شہریوں کو شدید نقصان پہنچا۔ایرانی بارڈر گارڈز نے دعوی کیا ہے کہ ایران کی سرحد پر 40 اسرائیلی ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔ اسرائیلی حملوں میں شہران کا آئل ڈپو اور تہران کے فیول ٹینک نشانہ بنے، تاہم وزارتِ تیل کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے۔ایران نے اسرائیل کی گولان پہاڑیوں پر حملہ کیاجس سے پہاڑیوں پر آٓگ لگ گئی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق 50 جہازوں کیذریعے 170 ایرانی ملٹری اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ تہران میں پاسداران انقلاب اور ایرانی دفاعی نظام سیمنسلک اہداف کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تہران کے وسطی علاقیمیں ایرانی پارلیمنٹ کی عمارت کیقریب دھماکوں کے بعد آگ لگ گئی جبکہ تہران کی شاہراہ طالقانی اور ولی عصر میدان کے قریب علاقوں میں دھماکیہوئے۔ تہران میں پولیس ہیڈ کوارٹر پراسرائیلی ڈرون حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اسرائیل نے پاسدارانِ انقلاب سمیت ایرانی افواج کے 20 سے زائد اعلی فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنا نے کادعویٰ کیاہے۔ اسرائیلی فوج نے مشہد ہوائی اڈے پر ری فیولنگ جہاز پر حملے کا دعوی بھی کیاجبکہ اسرائیلی فوج نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے ہیڈکوارٹر پر حملے کی فوٹیج جاری کر دی جبکہ ایرانی حملے میں آئل ریفائنری کو نقصان پہنچنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں 30 جون تک ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے۔امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکا سے مدد مانگ لی لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اب تک خود کو اسرائیلی کارروائی سے دور رکھا ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوجی تنصیبات اور اس سے منسلک علاقوں سے فوری طور پر نکل جائیں،پیغام میں کہاگیاہے کہ آپ کی ان تنصیبات کے قریب موجودگی آپ کی جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ایرانی پاسدران انقلا ب نے شہید رہنماوں کی تدفین کی رسومات منسوخ کردیں جبکہ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملوں کا خطرہ موجود ہے اسی لئے میٹرو سٹیشنز اور مساجد بطور بم شیلٹر عوام کیلئے دستیاب ہوں گے۔ایران کی خاتم الانبیا ایئر ڈیفنس بیس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا صباحی فرد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ ایران نے صرف ایک گھنٹے میں 10 اسرائیلی ڈرونز مار گرائے ہیں۔اسرائیل کی ایئرپورٹس اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ بن گوریون انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈنگ اور ٹیک آف پر پابندی برقرار رہے گی،ادھر ایران نے بھی اپنی فضائی حدود کی بندش کو توسیع دے دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی 79ویں سالگرہ اور امریکی فوج کے 250ویں یوم تاسیس کے موقع پر پریڈ سے خطاب میں امریکا کو دنیا کا مقبول ترین ملک قرار دیتے ہوئے خبردارکیا ہے کہ جو امریکا کو چیلنج کرے گا، اسے مکمل اور قطعی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان کاکہناتھاک ہ یہ فوجی لڑتے ہیں، لڑتے ہیں، لڑتے ہیں ، اور جیتتے ہیں، جیتتے ہیں، جیتتے ہیں۔ بار بار امریکا کے دشمنوں نے سیکھا ہے کہ اگر آپ امریکی عوام کو دھمکائیں گے تو ہمارے فوجی آپ تک پہنچیں گے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر ایک بیان میں ایران کو خبردار کیا ہیکہ اگر امریکا پر حملہ کیا تو اس کی افواج پوری طاقت کے ساتھ جواب دیں گی،اسرائیل کے حملے میں امریکا کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ آسانی سے کروا سکتے ہیں اور یہ تنازع حل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں فریق سنجیدہ ہوں۔ ایران اور اسرائیل کو ایک معاہدہ کرنا چا ہئے اور وہ معاہدہ کریں گے۔ امریکی صدر کاکہناتھا کہ ایران اور اسرائیل معاہدہ کریں جیسا میں نے پاک بھارت جنگ بند کروائی ، تجارت کا استعمال کرتے ہوئے پاک بھارت کے بہترین لیڈروں سے بات کی،پاک بھارت بات جیت میں عقل سے فیصلہ کیا گیا، جلد ہی پاکستان ،بھارت کی طرح اسرائیل اور ایران کا امن معاہدہ کرائوں گا،اس کیلئے بہت سی کالز اور ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ بعدازاں ڈونلڈٹرمپ نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہاکہ امریکا اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا حصہ نہیں مگر یہ ممکن ہے کہ امریکا اس تنازع کا حصہ بن جائے۔روس کے صدر ولادی میر پوٹن اس تنازع کے حل کیلئے ثالث بن جائیں تو میں اسے تسلیم کروں گا اور پوٹن ثالث بننے کیلئے تیارہیں ، ہماری اس حوالے سے طویل بات ہوئی ہے۔دوسری طرف کریملن کے سرمایہ کاری کے سفیر کیریلی دمتروف نے ایکس پوسٹ میں کہا ہے کہ روس اس تنازع میں ثالث بن کر ایک خاص کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پڑیشکیان نے سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے حملے بند نہ کئے تو ایران اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دے گا۔قطر نے اسرائیلی جارحیت کے دوران ایران کی حمایت کا اعلان کردیا۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے گزشتہ شام ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو فون کیا۔ایرانی صدر نے غزہ میں اسرائیلی جرائم کے خلاف اسلامی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی سرزمین کی سالمیت اور عوام کے حقوق کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا کہنا تھا کہ قطر اس بزدلانہ جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ اس کا جواب دے،قطر اپنے برادر ملک ایران کے ساتھ کھڑا ہے ۔عراقی وزیراعظم محمد شیعہ السودانی نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اورایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ مسعود پزشکیان کاکہناتھاکہ اسرائیل کومزیدتکلیف دہ اورتباہ کن جواب دیا جائے گا۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے تہران میں پریس بریفنگ کے دوران کہاکہ اسرائیلی حملے امریکی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھے، اسرائیل کے حملوں میں امریکا برابر کا شریک ہے، اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، اسرائیل نے ہماری ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر کے تمام ریڈ لائنز عبور کیں، پرامن جوہری پروگرام ہمارا حق ہے۔ دنیا اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لے، ہمیں اسرائیل نے معاشی اہداف کو نشانہ بنانے پر مجبور کیا، اسرائیل پر جوابی حملے اپنے دفاع میں کئے، ایران اپنا دفاع کر رہا ہے، جو ہمارا اصولی حق ہے۔عباس عراقچی نے واضح کیا کہ تہران جنگ بڑھانا نہیں چاہتا جب تک ہمیں اس پر مجبور نہ کیا جائے، ہم نہیں چاہتے کہ جنگ خطے کے دوسرے ممالک تک پھیلے۔ امریکا کے اسرائیل کی پشت پناہی کے واضح ثبوت موجود ہیں، ایران کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا جو اسے جوہری توانائی کے حصول سے روکے، ایران کا ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کا مئوقف حتمی ہے اور پرامن جوہری پروگرام ایران کا حق ہے، کوئی اسے چھیننے کا مجاز نہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، چین نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور اسرائیل کی جانب سے طاقت کے بے دریغ استعمال کی شدید مذمت کی۔ تہران میں تعینات غیر ملکی سفیروں سے ملاقات کے دوران عراقچی نے ایران کے اپنے دفاع کے حق اور اسرائیلی حکومت کے خلاف جوابی کارروائی کے جواز کو دہرایا، انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی حکومت امریکا کی حمایت کے بغیر اس قسم کی جارحیت کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اپنے پٓرامن جوہری پروگرام پر کاربند ہے، حملہ ظاہرکرتاکہ اسرائیل ایران کاعالمی جوہری معاہدہ نہیں چاہتا، انہوں نے واضح کیا کہ ایران 60 فیصد سے زیادہ یورینیم افزودہ کرنے کا عمل جاری رکھے گا۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک بار پھر تہران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوچیں، ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو کیا ہوچکا ہوتا؟۔