تاریخ کانیاموڑ

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کاتوازن مسلسل بدل رہاہے،اورہرنیابیان اس تبدیلی کی ایک کڑی بن جاتاہے۔لبنان پراسرائیلی حملوں کے تناظر میں ٹرمپ کاشام کاذکرکرناایک غیرمعمولی اشارہ ہے۔کیایہ خطے میں طاقت کے نئے توازن کی طرف اشارہ ہے؟یایہ محض ایک وقتی بیان؟سیاست میں بعض سوالات جواب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔تاہم لبنان اورشام کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات اس بات کی چغلی کھاتے ہیں کہ مشرقِ وسطی میں ایک نئی حکمت عملی تشکیل پارہی ہے۔یہاں ہراقدام ایک بڑے منصوبے کاحصہ معلوم ہوتاہے اور یہاں ہرقدم ایک نئی بساط بچھاتاہے،جس کامکمل نقشہ ابھی واضح نہیں۔
جب ایک ریاست دوسری کومسلسل مددفراہم کرے تواس کے بدلے میں توقعات بھی جنم لیتی ہیں۔یہی توقعات بعض اوقات اختلاف اور تنازع کاباعث بنتی ہیں،کیونکہ یہی توقعات بعض اوقات خود داری کے جذبے سے ٹکراجاتی ہیں۔جیساکہ حالیہ بیانات سے ظاہرہوتاہے۔ ٹرمپ کااسرائیل کوشکرگزاری کی تلقین کرنادراصل ایک بڑے سفارتی بیانیے کاحصہ ہے۔یہ بیان اس بڑھتی ہوئی خلیج کااظہارہے جسے ماہرین اب کھل کربیان کرنے لگے ہیں۔
جنگ بندی کے باوجودجاری جھڑپیں اس حقیقت کوعیاں کرتی ہیں کہ معاہدے اکثرزمینی حقائق کے تابع ہوتے ہیں۔جب تک بنیادی مسائل حل نہ ہوں،امن ایک عارضی وقفہ ہی رہتاہے۔جنوبی لبنان میں ہلاکتیں اس حقیقت کاثبوت ہیں کہ معاہدے کاغذپرہوتے ہیں،جبکہ جنگیں زمین پر۔یہ جھڑپیں اس حقیقت کونمایاں کرتی ہیں کہ کاغذی معاہدے زمینی حقائق کوہمیشہ تبدیل نہیں کرسکتے۔اصل طاقت میدانِ عمل میں ہی نظرآتی ہے۔گویاحزب اللہ اوراسرائیلی افواج کے درمیان جاری کشمکش اس خطے کی پیچیدگی کومزیدگہراکرتی ہے۔ یادرہے کہ جنگ بندی کامطلب ہمیشہ امن نہیں ہوتا۔اکثریہ محض ایک وقفہ ہوتاہے،جس میں دونوں فریق اپنی طاقت کومجتمع کرتے ہیں۔لبنان میں جاری صورتحال اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔
حزب اللہ اوراسرائیل کے بیانات ایک ایسے تصادم کی عکاسی کرتے ہیں جس میں دونوں فریق اپنے مقف پرڈٹے ہوئے ہیں۔اسرائیل کا افواج نہ نکالنے کافیصلہ ایک ایسے تصادم کی بنیادرکھتاہے جس کاانجام ابھی دھندمیں لپٹاہواہے۔دوسری طرف حزب اللہ کاموقف اس بات کی علامت ہے کہ مزاحمت محض عسکری حکمت عملی نہیں بلکہ ایک نظریاتی وابستگی بھی ہوتی ہے،جوحالات سے زیادہ عقیدے سے جنم لیتی ہے۔یہ نظریہ ہی اسے دوام بخشتاہے اوریہ استقامت ہی اس تنازع کوطول دیتی ہے۔
نیتن یاہو پراندرونی دبااس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ ہربیرونی جنگ کے پیچھے ایک داخلی سیاست بھی ہوتی ہے،اورعوامی رائے اورسیاسی مخالفین کادبااکثرفیصلوں کارخ بدل دیتا ہے۔نیتن یاہو کی صورتحال اس حقیقت کوواضح کرتی ہے کہ عالمی فیصلے اکثر داخلی دبا کے زیرِاثرہوتے ہیں۔ایک رہنماکو نہ صرف بیرونی خطرات کاسامناہوتاہے بلکہ داخلی مخالفت کا بھی۔عوامی رائے اورسیاسی بقاایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں جواکثرزیادہ فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔
اتماربن گویرکے بیانات جنگی جنون اورفاشزم ذہنیت کی اس انتہاپسندانہ سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں جومسائل کاحل طاقت کے استعمال میں دیکھتی ہے۔یہ طرزِفکرنہ صرف تنازع کوبڑھاتاہے بلکہ سفارتی راستے بھی مسدودکردیتاہے۔ان کے الفاظ میں وہ شدت ہے جو سفارت کاری کے تمام دروازے بندکردیتی ہے۔یہ طرزِفکرتنازعات کومزید پیچیدہ بنا دیتاہے۔کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلافی آوازیں اصلاح کاذریعہ بنتی ہیں۔اسرائیل کے اندراٹھنے والی تنقیدی آوازیں اس امرکاثبوت ہیں کہ جمہوری معاشروں میں اختلاف ہی اصلاح کاذریعہ بنتاہے۔یہ حقیقت کہ خوداسرائیل کے اندرایسی آوازیں موجودہیں جوحکومت کی تبدیلی کی بات کررہی ہیں،اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بھی بے چینی سرایت کرچکی ہے۔اسرائیل کے اندراٹھنے والی تنقیدی آوازیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جمہوریت میں اختلاف ہی اصلاح کاذریعہ بنتاہے۔
یائیر لاپیدکی تنبیہ دراصل ایک بڑے خطرے کی نشاندہی ہے کہ اگر پالیسیوں میں توازن نہ رکھاجائے توعالمی سطح پرتنہائی کاسامنا کرناپڑسکتاہے۔گویاایک سیاسی الارم ہے اگرسمت نہ بدلی گئی تویہی عالمی تنہائی اسرائیل کے وجودکیلئے سب سے بڑا خطرہ بن سکتی ہے اوراسرائیل کی بقاکیلئے نیتن یاہوکامنظرسے ہٹاناناگزیرہوگیاہے۔لیبرمین کامطالبہ بھی اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ اسرائیلی سیاست میں ایران اورلبنان کے محاذوں کوالگ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے،تاکہ حکمت عملی میں لچک باقی رہے۔ان کا یہ بیان اس حقیقت کوبھی اجاگرکرتاہے کہ ہرریاست اپنی پالیسیوں میں قومی مفادکوسب پرمقدم رکھتی ہے،چاہے اس کیلئے عالمی دباؤکوجب نظر انداز ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
فریقین کسی معاہدے کوتسلیم نہ کریں تواس کی حیثیت محض ایک تحریری دستاویزرہ جاتی ہے۔یہی صورتِ حال یہاں بھی دکھائی دیتی ہے۔بن گویرکایہ کہناکہ ہم اس معاہدے کے پابند نہیں،دراصل عالمی معاہدات کی کمزوری کوبے نقاب کرتاہے جب فریقین خودکوپابندنہ سمجھیں تومعاہدے محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔ٹرمپ کی براہ راست نیتن یاہوپرتنقیداور یورپی رہنماں کے بدلتے رویوں کے بعدنیتن یاہوکامحتاط بیان ایک تجربہ کارمگرمکارسیاست دان کی عکاسی کرتاہے،جو حالات کی نزاکت کوسمجھتے ہوئے اپنے الفاظ کاانتخاب کرتے ہیں کہ ہرلفظ کاوزن ہوتاہے اورہرجملہ تاریخ میں درج ہوجاتاہے تاکہ سفارتی توازن برقراررہے۔ڈیجٹل دورکے سوشل میڈیاپرجاری بحث اس بات کی دلیل ہے کہ اب سفارت کاری صرف بندکمروں میں نہیں بلکہ عوامی فورمزپربھی تشکیل پاتی ہے،جس نے سفارتکاری کوعوامی سطح پرمنتقل کردیاہے جہاں ہربیان فوری ردعمل اورعالمی سیاست کوایک نیا رخ دیکر عوامی بحث کاحصہ بن جاتاہے اوربیانیہ تشکیل پاتاہے۔جس کے نتیجے میں فوری طورپررائے عامہ تشکیل پاتی ہے۔
ماہرین کی رائے یہ ظاہرکرتی ہے کہ بظاہرسخت بیانات کے باوجودپالیسیوں میں فوری تبدیلی کاامکان کم ہے۔یہ ایک نفسیاتی جنگ بھی ہوسکتی ہے جہاں اصل مقصدمخالف کوذہنی طور پرکمزورکرناہوتاہے۔ماہرین کے نزدیک یہ سب لفظوں کی جنگ ہے،مگرتاریخ بتاتی ہے کہ بعض اوقات لفظ ہی ہتھیاربن جاتے ہیں اوربیانیے حقیقت کارخ موڑدیتے ہیں۔
ڈومینک مائیکل کاتجزیہ اس ممکنہ مستقبل کی جھلک پیش کرتاہے جہاں امریکااسرائیل پردباؤبڑھاسکتاہے۔ممکنہ پابندیاں اوراسلحے کی فراہمی میں تاخیرایک ایسادباپیداکرسکتی ہے جو براہِ راست جنگ کے بغیربھی اپنے اثرات مرتب کرتی ہیں۔یہ جدید سفارتکاری کاایک مؤثرہتھیاربن چکاہے جوجنگ کے بغیربھی جنگ کااثرپیداکرسکتاہے۔
یہ تمام نکات مل کرایک پیچیدہ مگرمربوط تصویرپیش کرتے ہیں،جس میں عالمی سیاست کی حرکیات پوری شدت کیساتھ جلوہ گرہیں۔یہ ایک ایسے عالمی منظرنامے کی تصویرپیش کرتے
ہیں جہاں طاقت،اصول اورمفادایک پیچیدہ توازن میں بندھے ہوئے رقص میں مصروف اورایک دوسرے کیساتھ برسرِپیکارہیں۔جس میں عالمی سیاست ایک شطرنج کی بساط کی ماننددکھائی دیتی ہے ،ہرمہرہ اپنی جگہ اہم، مگراصل کھیل حکمت عملی کاہے۔امریکا،ایران اوراسرائیل کے درمیان جاری یہ کشمکش دراصل ایک وسیع ترتبدیلی کی علامت ہے، ایسی تبدیلی جس میں جنگیں صرف میدان میں نہیں بلکہ ذہنوں،بیانیوں اوراداروں کے اندربھی لڑی جارہی ہیں۔یہ محض طاقت کاکھیل نہیں بلکہ تہذیبی،فکری اورسیاسی تصادم کامظہرہے اوریوں محسوس ہوتاہے کہ تاریخ ایک نئے باب کے دہانے پرکھڑی ہے،جہاں فتح صرف اس کی نہیں ہوگی جوطاقتورہے،بلکہ اس کی ہوگی جوحکمت،توازن اوربصیرت کے ساتھ اس
 پیچیدہ کھیل کوسمجھنے اورکھیلنے کی صلاحیت رکھتاہو۔
گویاتاریخ ایک نئے باب کی طرف بڑھ رہی ہے،جہاں جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ الفاظ،معاہدوں اوربیانیوں سے بھی لڑی جائیں گیاورفتح اسی کی ہوگی جوان تمام محاذوں پریکساں مہارت رکھتاہو۔امریکا،ایران اوراسرائیل کے درمیان جاری کشمکش دراصل ایک وسیع ترتبدیلی کاحصہ ہے،جوآنے والے برسوں میں عالمی سیاست کی سمت کا تعین کرے گی۔ اگراس پورے منظرنامے کوایک جملے میں سمیٹا جائے تویوں کہاجاسکتاہے کہ یہاں فتح اس کی ہوتی ہے جونہ صرف میدان بلکہ ذہنوں کوبھی مسخرکرلے۔