تاریخ کانیاموڑ

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
زمانہ کبھی ساکن نہیں رہتا؛تاریخ کاپہیہ ہمیشہ گردش میں رہتاہے،مگربعض ادوارایسے ہوتے ہیں جب اس کی رفتارتیزہوجاتی ہیاور واقعات کی کڑیاں ایک دوسرے سے اس شدت کے ساتھ جڑتی ہیں کہ صدیوں کافاصلہ لمحوں میں سمٹ آتاہے۔یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاست کامنظرنامہ ہمیشہ ایک متحرک دریاکی مانندرہاہے،جس کی لہریں کبھی پرسکون دکھائی دیتی ہیں اورکبھی طغیانی کاروپ دھار لیتی ہیں۔یہ زمانہ محض واقعات کاہجوم نہیں بلکہ معانی کاایک سمندرہے،جس کی تہہ میں اترے بغیراس کی موجوں کاشورسمجھ میں نہیں آتا۔ 
اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں طاقت کے مراکزنئی ترتیب اختیارکررہے ہیں،آج کی دنیامیں طاقت کی سیاست اپنے روایتی سانچوں کوتوڑکرنئے قالب اختیارکررہی ہے۔عصرِحاضرکاعالمی منظرنامہ بھی کچھ ایساہی ہیجہاں امریکا،ایران اوراسرائیل کے درمیان کشمکش محض سفارتی اختلاف نہیں بلکہ عالمی نظام کی تشکیلِ نوکاپیش خیمہ دکھائی دیتی ہے۔ان تین ممالک کے درمیان جاری کشمکش اس تغیرکی سب سے نمایاں مثال اورایک ایسی گنجلک داستان بن چکی ہے جس میں صرف عسکری قوت ہی نہیں بلکہ بیانیہ، سفارت کاری اورداخلی سیاست بھی فیصلہ کن کرداراداکر رہی ہے۔یہ صرف تین ریاستوں کامعاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کی تشکیل کامرحلہ ہے جس میں پرانے اصول دم توڑرہے ہیں اورنئے اصول ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوئے۔
ریاستی نظم میں طاقت کاارتکازہمیشہ خطرے کی گھنٹی سمجھاگیاہے۔امریکی سینیٹ کی حالیہ پیش رفت اس امرکی آئینہ دارہے کہ جدید جمہوریتیں بھی اپنے اندرایک خوداحتسابی کانظام رکھتی ہیں۔امریکی نظامِ حکومت کی بنیادہی اس اصول پررکھی گئی تھی کہ طاقت کو تقسیم کیاجائے تاکہ کوئی ایک ادارہ مطلق العنان نہ بن سکے۔حالیہ قرارداداسی تاریخی فلسفے کی تجدیدمعلوم ہوتی ہے،جہاں مقننہ نے عاملہ کے دائرہ اختیارپرسوال اٹھایاہے۔ایران کے خلاف فوجی اقدام کومقننہ کی اجازت سے مشروط کرنادراصل اس تصورکوتقویت دیتا ہے کہ جنگ کافیصلہ فردِواحدکی خواہش نہیں بلکہ اجتماعی شعورکی توثیق سے مشروط ہوناچاہیے۔
امریکی سینیٹ کی کارروائی کواگرمحض ایک سیاسی قدم سمجھاجائے تویہ اس کی معنویت کوکم کردیناہوگا۔امریکی سیاست میں صدارتی اختیارات ہمیشہ سے بحث کامحوررہے ہیں،مگرایران کے خلاف ممکنہ جنگی کارروائی کے تناظرمیں یہ سوال ایک نئی شدت کے ساتھ ابھراہے۔دراصل یہ اقدام اس قدیم بحث کی تجدیدہے کہ کیاجنگ کااختیارایک فردکے پاس ہوناچاہیے یااجتماعی اداروں کے پاس؟یہاں مسئلہ صرف ایران نہیں بلکہ امریکی جمہوریت کی روح ہے۔یہ سوال اٹھ کھڑاہواہے کہ کیاطاقت کومحدودکرناخودریاست کے استحکام کا ذریعہ ہے یااس کی کمزوری کاباعث؟
سینیٹ کی جانب سے منظورکی جانے والی قراردادگویااس امرکی علامت ہے کہ جمہوری نظام میں طاقت کاسرچشمہ محض ایک فرد نہیں بلکہ اجتماعی ادارے ہوتے ہیں۔48کے مقابلے میں50ووٹوں سے منظور ہونے والی یہ قرارداد محض اعدادکاکھیل نہیں بلکہ ایک فکری کشمکش کامظہرہے،جس میں طاقت اوراحتساب ایک دوسرے کے مدِ مقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔یہ اقدام گویااس یاددہانی کے مترادف ہے کہ جنگ کافیصلہ صرف میدانِ اقتدارکی خواہش نہیں بلکہ قومی شعورکی اجتماعی منظوری کاتقاضابھی کرتاہے۔
بعض اوقات سیاست میں وہ فیصلے جو ظاہرغیرمثردکھائی دیتے ہیں،درحقیقت گہرے اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ بعض قراردادیں اپنے قانونی اثرسے زیادہ اپنے اخلاقی وزن کے باعث اہم ہوجاتی ہیں۔یہ اقدام بھی ایک طرح کی پارلیمانی سرگوشی ہے،جو ظاہرمدھم سہی مگراپنے اندرایک گونج رکھتی ہے۔یہ گویاایک ایساچراغ ہے جواندھیرے کومکمل ختم نہ کرے مگراس کے وجود کوچیلنج ضرورکرے۔
اگرچہ یہ قراردادقانونی حیثیت سے محروم اوربظاہربے اثرسہی،مگراس کاوجودایک خاموش احتجاج کی صورت میں سامنے آیاہے۔ سیاست میں بعض اوقات علامتیں حقیقت سے زیادہ طاقتوراوران کاوجودایک مضبوط اورہلا دینے والاسیاسی اشارہ ہوتاہے جیسے کسی خاموش دریاکے نیچے بہاتیزہو،ویسے ہی یہ اقدام امریکی سیاست کے اندرونی تناکوظاہرکرتاہے۔یہ گویا یک ایساپیغام ہے جوالفاظ سے زیادہ اپنی موجودگی سے اثراندازہوتاہے۔
ایوانِ نمائندگان سے اس کی منظوری اس امرکااعلان ہے کہ امریکی سیاسی اشرافیہ کے اندرایک واضح تقسیم موجودہے۔یہ قراردادگویا ایک خاموش احتجاج ہیایسااحتجاج جوقانون کی زبان میں نہیں بلکہ سیاسی اشاروں میں اپنی بات کہتاہے۔گویاایوان نے یہ پیغام دیاہے کہ اختلاف رائے جمہوریت کاحسن ہے،اوراختلاف ہی وہ قوت ہے جوطاقت کوبے لگام ہونے سے روکتی ہے۔
صدرٹرمپ کاردِعمل اس قراردادپرایک ایسے متکبررہنماکاردِعمل ہے جوخودکو تاریخ کے دھارے کامعماراورایک ایسے قائدکی تصویر پیش کرتاہے جواپنی حکمت عملی کوکامیابی کے قریب سمجھتاہے۔ان کے بیانات میں جہاں ایک فاتحانہ لہجہ جھلکتاہے،وہاں ان کے الفاظ میں ایک فاتح کی خوداعتمادی اورایک سیاستدان کی خفگی دونوں جھلکتی ہیں۔ان کے بیانات میں جوشدت اوراعتمادجھلکتاہے،وہ دراصل جدیدسیاست کے اس رجحان کامظہرہے جہاں بیانیہ حقیقت پرغالب آجاتاہے۔وہ خودکو ایک ایسے کردارکے طورپرپیش کرتے ہیں جو تاریخ کا دھاراموڑنے کی صلاحیت رکھتاہے۔جس میں یہ تاثردیاگیاکہ اگررکاوٹ نہ ڈالی جاتی تونتیجہ یکسرمختلف ہوتا۔
یہ اسلوبِ بیان دراصل سیاسی نفسیات کاحصہ ہے،جہاں فرضی کامیابی کاتصورخوداپنی دلیل توبن جاتاہے لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ان کے الفاظ میں ایک ایسی یقین دہانی ہے جوحقیقت سے زیادہ تصورپرمبنی ہوتی ہے۔وہ ایک ایسے منظرکی تصویر کشی کرتے ہیں جہاں کامیابی ان کے قدم چومنے کوتھی،مگرسیاسی رکاوٹوں نے اسے روک دیا۔وہ ایران کوشکست کے دہانے تک پہنچانے کادعوی کرتے ہیں،گویایہ معرکہ صرف عسکری نہیں بلکہ شخصی وقارکامسئلہ بھی تھامگرسیاست میںاگراورمگرکی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔تاریخ اکثران دعوں کوکسوٹی پرپرکھتی ہے۔
امریکی تاریخ میں جنگی اختیارات کامسئلہ ہمیشہ حساس رہا ہے اورامریکی آئین کی روح میں طاقت کی تقسیم ایک بنیادی اصول ہے۔ 1973کے بعداب ایک نئی بحث نے جنم لیاہے،جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وقت گزرنے کے باوجود بنیادی سوالات اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔1973کے وار پاورزریزولوشن کے بعدیہ پہلا موقع ہے کہ کانگریس نے اس نوع کی اجتماعی آوازبلندکی ہے۔یہ تسلسل اس حقیقت کامظہرہے کہ جمہوریت ایک مسلسل مکالمہ ہے،نہ کہ کوئی حتمی فیصلہ۔ 
حالیہ پیش رفت اسی روایت کاتسلسل ہے،جویہ باورکراتی ہے کہ جمہوریت محض انتخابی عمل نہیں بلکہ ادارہ جاتی توازن کا نام ہے۔ امریکی قانون میں جنگی اختیارات کی جوحدودمتعین کی گئی ہیں،وہ محض قانونی دفعات نہیں بلکہ ایک تاریخی تجربے کانتیجہ ہیں۔یہ حدوداس لیے قائم کی گئیں تاکہ طاقت کااستعمال جذبات کے بجائے تدبرسے ہو۔تاریخ گویااپنے آپ کودہرارہی ہے،مگرنئے کرداروں اور نئے اسلوب کے ساتھ۔ امریکی قانون میں60دن کی حداور30دن کی توسیع کی گنجائش اس بات کی یاددہانی ہے کہ جنگ محض میدانِ کارزارمیں نہیں بلکہ آئینی دفعات میں بھی لڑی جاتی ہیمگرسوال یہ ہے کہ کیاعملی سیاست ہمیشہ ان حدودکی پابندرہتی ہے؟
امریکااوراسرائیل کاتعلق ہمیشہ مضبوط اورمثالی سمجھاجاتارہاہے-ادھردوسری طرف جے ڈی وینس کی تنقیداوراسرائیلی قیادت کی بے چینی اس حقیقت کوآشکارکرتی ہے کہ عالمی اتحادہمیشہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں،جذبات کے نہیں۔اگربنیادیں مفادپرہوں تومعمولی اختلاف بھی دراڑبن جاتاہے۔حالیہ اختلافات نے یہ واضح کردیاہے کہ عالمی سیاست میں کوئی رشتہ دائمی نہیں ہوتااورہرتعلق کی بنیاد مفادپرہوتی ہے،اورمفاد بدلتے ہی ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔مفادات میں معمولی سابھی فرق پیداہوتاہے تودیرینہ تعلقات بھی آزمائش کا شکارہوجاتے ہیں۔ہراتحادکے اندرایک نازک توازن موجودہوتاہے اور جب یہ توازن بگڑتاہے تومضبوط رشتے بھی کمزورپڑنے لگتے ہیں۔ 
یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ جوریاست جتنی زیادہ طاقتورہوتی ہے،وہ اتنی ہی زیادہ اپنے اتحادیوں پرانحصار بھی کرتی ہے۔اسرائیل کی عسکری قوت میں امریکی کرداراس تضادکونمایاں کرتاہے کہ انحصاراورخود مختاری ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں مگرہمیشہ ہم آہنگ نہیں رہتے۔امریکی نائب صدرکابیان ایک پیچیدہ حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے کہ عالمی سیاست میں خودمختاری اورانحصارایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔یہی کشمکش تعلقات میں تناؤپیداکرتی ہے۔ان کابیان ایک تلخ مگرواضح حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ اسرائیل کی عسکری قوت کابڑا حصہ امریکی وسائل سے جڑاہواہے۔اسرائیل کی عسکری قوت میں امریکی کرداراس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ طاقت کے ڈھانچے اکثر باہمی تعاون پرقائم ہوتے ہیں۔(جاری ہے)