افریقی ملک کیمرون کے 92 سالہ صدر پال بیا (Paul Biya) نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ صدارتی انتخابات میں مسلسل آٹھویں مرتبہ امیدوار ہوں گے۔
وہ اس وقت دنیا کے معمر ترین حکمران ہیں، اور 1982 سے اقتدار میں ہیں۔ ان کے اعلان نے بین الاقوامی اور مقامی سطح پر سیاسی بحث کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔پال بیا نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ:"ملک کو درپیش سنگین چیلنجز کے پیش نظر، میری قوم کی خدمت کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔"
اقتدار کی طویل مدت:
کیمرون کو 1960 میں فرانس سے آزادی ملی، اور پال بیا 1982 میں ملک کے دوسرے صدر بنے۔ انہوں نے 2008 میں آئین میں تبدیلی کر کے صدارتی مدت کی حد ختم کر دی، جس کے بعد وہ 2011 اور 2018 میں بھی صدر منتخب ہوئے۔ان کا 2018 کا انتخاب متنازع رہا، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر 71 فیصد ووٹ حاصل کیے، لیکن کئی اپوزیشن رہنماؤں اور بین الاقوامی مبصرین نے شفافیت پر سوالات اٹھائے۔
موجودہ سیاسی صورتحال:
کیمرون میں اگلے صدارتی انتخابات 12 اکتوبر 2025 کو ہونے جا رہے ہیں، اور اس بار کئی اپوزیشن رہنماؤں نے بھی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ ملک کو بےروزگاری، بدعنوانی، معاشی بحران، اور انگریزی بولنے والے علاقوں میں علیحدگی کی تحریکوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
تنقید اور حمایت:
پال بیا کے ناقدین ان پر جمہوریت کو نقصان پہنچانے، طاقت پر قابض رہنے، اور انسانی حقوق کی پامالی جیسے الزامات لگاتے ہیں۔ تاہم ان کے حامی انہیں استحکام کی علامت اور مغربی اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت کرنے والا رہنما قرار دیتے ہیں۔
عالمی ردعمل:
بین الاقوامی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں انتخابات کی شفافیت اور منصفانہ طریقہ کار پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر پال بیا کامیاب ہوتے ہیں، تو وہ 2032 تک 100 برس کی عمر میں صدارت مکمل کریں گے۔